امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو اتحاد کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے کاغذی شیر قرار دے دیا ہے اور اتحادی ممالک کو ایران کے خلاف کارروائی میں ساتھ نہ دینے پر بزدل کہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بغیر نیٹو کچھ بھی نہیں، یہ صرف ایک کاغذی اتحاد ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ نیٹو ممالک نے ایران کے خلاف کارروائی میں حصہ لینے سے گریز کیا، جبکہ اب تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر شکایت کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا ایک آسان فوجی اقدام ہے، مگر دیگر ممالک اس میں حصہ لینے سے کترا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس صورتحال کو یاد رکھے گا۔
ادھر برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان سمیت 6 بڑے ممالک نے آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کے لیے مناسب اقدامات میں تعاون کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم کسی باقاعدہ فوجی مشن میں شرکت کا اعلان نہیں کیا۔ جرمنی اور اٹلی نے واضح کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی سے پہلے کسی کارروائی میں شامل نہیں ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔ یہ اہم بحری گزرگاہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس کی بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جس کے جواب میں ایران نے خلیجی علاقوں میں کارروائیاں کیں۔










