ایران میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران سزائے موت کا سلسلہ مزید تیز ہو گیا ہے، جہاں حکام نے رواں برس جنوری میں احتجاجی مظاہروں سے جڑے تین افراد کو پھانسی دے دی، جس پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران نے جن افراد کو سزائے موت دی ان میں ایک کم عمر ریسلر بھی شامل تھا، جس نے بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لیا تھا۔ تینوں افراد کو قم شہر میں پھانسی دی گئی، جن پر پولیس اہلکاروں کے قتل اور امریکہ و اسرائیل کے حق میں کارروائیاں کرنے کا الزام تھا۔
ایرانی عدلیہ کے مطابق ملزمان کو خدا کے خلاف جنگ یعنی محاربہ کے جرم میں سزا سنائی گئی، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان فیصلوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان کو منصفانہ ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اور ان سے تشدد کے ذریعے اعترافات لیے گئے۔
انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ نوجوان ریسلر کو مناسب قانونی دفاع تک رسائی نہیں دی گئی اور مقدمہ تیزی سے نمٹایا گیا، جو کسی بھی شفاف عدالتی عمل سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دوسری جانب، ایران ہیومن رائٹس اور دیگر عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے تناظر میں ایران میں بڑے پیمانے پر سزائے موت دیے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات معاشرے میں خوف پھیلانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ ایران میں حالیہ احتجاج مہنگائی کے خلاف شروع ہوئے تھے، جو بعد میں حکومت مخالف تحریک میں تبدیل ہو گئے۔ انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایرانی حکام ان ہلاکتوں کو “دہشت گردی” کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کی پالیسی مزید سخت ہوتی جا رہی ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔









