اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے وعدہ کردہ امدادی رقم میں سے 2 ارب ڈالرز کے فنڈز موصول ہو گئے ہیں۔ یہ رقم 15 اپریل 2026 کو اسٹیٹ بینک کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔
سعودی عرب کی جانب سے موصول ہونے والی اس رقم سے پاکستان کے غیر ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کو سہارا ملے گا۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق یہ رقم ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب پاکستان کو رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو تقریباً 3.5 ارب ڈالرز کا قرض واپس کرنا ہے، جس کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ تھا۔
اس 2 ارب ڈالر کے علاوہ سعودی عرب نے پاکستان کے لیے مزید 3 ارب ڈالرز کے اضافی ڈیپازٹس کا بھی اعلان کیا ہے، جس کی منظوری وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے دورہ واشنگٹن (عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے موقع پر) کے دوران دی گئی۔ یہ اضافی رقم بھی جلد منتقل ہونے کی توقع ہے۔
سعودی عرب نے نہ صرف نئے فنڈز فراہم کیے ہیں بلکہ پہلے سے موجود 5 ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے۔ اب یہ رقم سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہونے کے بجائے طویل مدت کے لیے پاکستان کے پاس رہے گی، جس سے ادائیگیوں کا دباؤ کم ہوگا۔
مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے اس بڑی مالی مدد سے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے جاری پروگرام اور مستقبل کے مذاکرات میں آسانی پیدا ہوگی، کیونکہ یہ بیرونی فنانسنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
یہ پیش رفت وزیرِ اعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ سعودی عرب اور وزیرِ خزانہ کی عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ ملاقاتوں کے مثبت نتائج کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، جس سے روپے کی قدر کو استحکام ملنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کی امید ہے۔











