بنگلا دیش میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کے اہل خانہ کے ووٹر کارڈ معطل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث وہ آئندہ انتخابات میں حق رائے دہی سے محروم کردیے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلا دیش کی سیاست میں ایک نیا موڑ آیا ہے۔ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور ان کے اہل خانہ کے ووٹر کارڈ معطل کر دیے گئے ہیں، جس کے باعث اب وہ آئندہ عام انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے محروم رہیں گے۔
جن افراد کے قومی شناختی کارڈ بلاک کئے گئے ان میں شیخ ریحانہ صدیقی، سجیب واجد جوئے، صائمہ واجد، شہناز صدیقی، بشریٰ صدیقی، ٹیولپ رضوانہ صدیقی، عزمیرہ صدیقی، رضوان مجیب صدیقی اور طارق احمد صدیقی شامل ہیں۔
بنگلا دیشی الیکشن کمیشن کے مطابق ان کے قومی شناختی کارڈ (این آئی ڈی) بلاک کر دیے گئے ہیں اور ووٹنگ صرف انہی شہریوں کے لیے ممکن ہوگی جن کے این آئی ڈی فعال ہوں۔
الیکشن کمیشن کے سینئر سیکریٹری اختر احمد نے کہا کہ قانون کے مطابق بیرون ملک مقیم افراد بھی صرف این آئی ڈی کی بنیاد پر ووٹ ڈال سکیں گے، پاسپورٹ کے ذریعے یہ سہولت فراہم نہیں کی جا سکتی۔ شیخ حسینہ ووٹ نہیں دے پائیں گی، کیونکہ ان کا این آئی ڈی بلاک ہے۔
انتخابی حکام نے تصدیق کی کہ نیشنل آئیڈینٹی فکیشن رجسٹریشن ونگ نے ڈائریکٹر جنرل اے ایس ایم ہمایوں کبیر کی ہدایت پر شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کے نو دیگر افراد کے این آئی ڈی کو بلاک کیا۔











