اہم ترین

دھمکیوں سے مذاکرات: ٹرمپ کے ایران پر اچانک یوٹرن سے عالمی سطح ہر حیرانگی

عالمی منڈیاں اور دنیا بھر کے مبصرین امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اچانک یوٹرن کے عادی ہو چکے ہیں، تاہم ایران کے معاملے پر گزشتہ روز ان کا یوٹرن حالیہ عرصے کا سب سے حیران کن اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔

اقتدار میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے کھلے عام “جذباتی انداز” میں حکمرانی کو اپنایا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر وہ بارہا متضاد بیانات دے چکے ہیں، حتیٰ کہ 13 مارچ کو انہوں نے کہا تھا کہ جنگ اس وقت ختم ہوگی جب انہیں “اندر سے محسوس ہوگا”۔

امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر گیرٹ مارٹن کے مطابق ٹرمپ اچانک فیصلے بدلنے کے ماہر ہیں، جس سے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کوئی واضح حکمت عملی موجود ہے یا سب کچھ وقتی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔

ٹرمپ کی پالیسی کا ایک مخصوص انداز سامنے آیا ہے: پہلے سخت تجارتی، سفارتی یا عسکری دھمکیاں دی جاتی ہیں، پھر اچانک پسپائی اختیار کر کے کسی “اہم پیش رفت” کا دعویٰ کیا جاتا ہے، جس کی تفصیلات اکثر واضح نہیں ہوتیں۔

گزشتہ روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا جب ٹرمپ نے اپنے پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں۔ اس خبر کے بعد عالمی منڈیوں میں زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت میں 14 فیصد سے زائد کمی ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی تقریباً 10 فیصد سستا ہو گیا۔ اسی دوران ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج 700 پوائنٹس تک بڑھ گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ صرف دو روز قبل ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز کھولے، ورنہ وہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ تاہم گزشتہ روزانہوں نے پانچ دن کی نئی مہلت دے کر مذاکرات جاری رکھنے کی بات کی۔

ٹرمپ نے بہت مثبت بات چیت کا دعویٰ کیا اور ایرانی حکام کو باوقار قرار دیا، مگر ایران نے کسی بھی مذاکرات کی تردید کر دی، جس سے منڈیوں کا جوش کسی حد تک کم ہو گیا۔

ٹرمپ نے اپنی تقریر میں ایک بار پھر اپنی ڈیل کرنے کی صلاحیت پر زور دیا، لیکن کسی ٹھوس پیش رفت کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

عالمی میڈیا نے ٹرمپ کے اس رویے کو ٹاکو (ٹرمپ آلویز چکن آؤٹ) کی اصطلاح دی جا چکی ہے۔ اس محاورے کے معنی ہیں کہ ٹرمپ ہمیشہ عین موقع پر ہمت ہار جاتے ہیں۔ اس اصطلاح کو پہلی بار فنانشل ٹائمز کے صحافی رابرٹ آرمسٹرانگ نے 2025 میں استعمال کیا تھی۔

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس تازہ یوٹرن کے پیچھے عالمی منڈیوں میں بے چینی، خلیجی ممالک کا دباؤ، اور ان کی اپنی سیاسی جماعت کے اندر اختلافات جیسی بڑی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس طرز حکمرانی کے باعث امریکا کے اتحادی اور مخالفین دونوں یہ سمجھ چکے ہیں کہ اس انتظامیہ کے وعدے اور معاہدے مستقل نوعیت کے نہیں ہوتے، بلکہ حالات کے ساتھ بدل سکتے ہیں۔

پاکستان