ایران نے اپنی بندرگاہوں کی مسلسل امریکی ناکہ بندی کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، ایرانی مسلح افواج کے ہیڈ کوارٹر نے اعلان کیا ہے کہ یہ اہم ترین اسٹریٹجک بحری راستہ اب دوبارہ مکمل طور پر فوج کے سخت انتظام اور کنٹرول میں ہے۔
ایرانی فوج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹر کے ترجمان نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنی سابقہ حالت پر واپس آ گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اس سے قبل نیک نیتی کے تحت تیل کے ٹینکروں اور تجارتی جہازوں کی ایک محدود تعداد کو گزرنے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا تھا، لیکن اب یہ رعایت ختم کر دی گئی ہے۔
ترجمان نے امریکی رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکیوں نے اپنی بدعہدی کی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ناکہ بندی کے نام پر کی جانے والی امریکی کارروائیوں کو قزاقی اور سمندری چوری قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ تہران کی قیادت نے جمعہ کو جنگ بندی کے دوران جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا عندیہ دیا تھا، جس کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم بھی کیا تھا۔ تاہم، صدر ٹرمپ کے اس بیان نے کہ “امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک ایران کے ساتھ معاملہ 100 فیصد مکمل نہیں ہو جاتا،” صورتحال کو دوبارہ کشیدہ کر دیا ہے۔
ایران کے اس تازہ فیصلے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے سب سے اہم بحری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔


