پاکستانی سول اور عسکری قیادت کی سفارتی محاذ پر عالمی سطح پر پزیرائی

امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان نے عالمی سفارتی محاذ پر اہم کردار سنبھال رکھا ہے۔ حالیہ دنوں میں ہونےوالی تیز رفتار سفارتی سرگرمیوں کے دوران فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر مرکزی کردار ادا کررہے ہیں ۔

رواں برس 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی ایران سمیت پورے مشرق وسطیٰ پر تھوپی گئی جنگ نے پوری دنیا کو توانائی کے سنگین ترین بحران سے دوچار کیا ہے۔

خطے میں جنگ کے خاتمے اور صورت حال معمول پر لانے کے لئے پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے۔ جس کے لئے عالمی میڈیا میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کو انتہائی پزیرائی مل رہی ہے۔

اےایف پی کی حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق جنرل عاصم منیر گزشتہ دنوں ایک اہم سفارتی مشن پر ایران کے دارالحکومت تہران گئے، جہاں انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات کی تجاویز بھی پہنچائیں۔ اس دورے کو دونوں ممالک کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی سفارتی محاذ پر سرگرمی دکھاتے ہوئےسعودی عرب ، قطر اور ترکیہ کا دورہ کیا، جہاں علاقائی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔

یہ مشترکہ حکمت عملی پاکستان کے سیاسی اور عسکری اداروں کے درمیان ہم آہنگی کو ظاہر کرتی ہے، جسے ماہرین “ہائبرڈ ماڈل” قرار دیتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مذاکراتی عمل میں اصل فیصلہ کن کردار فوجی قیادت ادا کر رہی ہے۔

جنرل عاصم منیر ان چند شخصیات میں شامل ہیں جو امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ اعتماد کا تعلق رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ مذاکرات کو آگے بڑھانے میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔

یاد رہے کہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور میں دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد براہِ راست اعلیٰ سطحی بات چیت ہوئی تھی، تاہم کوئی حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ اس کے باوجود رابطے جاری رہے اور اب دوسرے مرحلے کی راہ ہموار ہو رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو پاکستان نا صرف خطے میں امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ عالمی سطح پر اپنی سفارتی حیثیت کو بھی مزید مضبوط کر لے گا۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان ایک بار پھر عالمی سیاست میں ایک اہم ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے، جہاں اس کا کردار آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتا ہے۔