ایران امریکا جنگ کا پاکستان پر وار! مہنگائی سے عوام کا جینا حرام

پاکستان اس وقت ایک پیچیدہ صورتحال سے دوچار ہے، جہاں ایک طرف وہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار ادا کر رہا ہے، تو دوسری جانب اسی تنازع کے معاشی اثرات ملک کے اندر شدت اختیار کر رہے ہیں۔

رواں برس 28 فرروی کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے بعد سے اب تک ایندھن کی قیمتوں میں 14 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے جبکہ توانائی بچانے کے لیے ملک بھر میں وقفے وقفے سے بجلی کی بندش (لوڈشیڈنگ) جاری ہے، جس نے صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو شدید متاثر کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت تیل اور گیس کی درآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے، اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سپلائی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے معاشی بحالی کا عمل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد رہی، تاہم گزشتہ برسوں کی بلند مہنگائی نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بیروزگاری کی شرح 7.1 فیصد ہے جبکہ تقریباً 29 فیصد آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

آئی ایم ایف نے بھی پاکستان کی 2026 کی معاشی شرح نمو کم کر کے 3.6 فیصد کر دی ہے، جس کی بڑی وجہ خطے میں جاری کشیدگی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ اثر ٹیکسٹائل سیکٹر اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں پر پڑے گا، جبکہ عام شہری بھی مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے کیونکہ کھاد کی پیداوار گیس پر منحصر ہے، اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اثر زراعت پر پڑ سکتا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال مزید چند ماہ جاری رہی تو ان کا کاروبار مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف سفارتی محاذ پر بلکہ اندرونی معاشی پالیسیوں میں بھی فوری اور مؤثر اقدامات کرے، ورنہ عوامی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔