اہم ترین

ورتیکا پٹیل:ہر مہینے لاکھوں کمانے والی انسٹاگرام انفلوئنسر، جس کا وجود ہی نہیں

بھارت میں آج کل ورتیکا پٹیل نامی ایک انفلوئنسر خبروں میں ہے، جس کے انسٹاگرام پر ایک لاکھ سے زائد فالوورز ہیں۔ لوگ اس کی تصاویر دیکھ کر متاثر ہوتے ہیں، اس کی لائف اسٹائل کو فالو کرتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک اےآئی انفلوئنسرہے۔

عام الفاظ میں کہا جاسکتاہے کہ ورتیکا پٹیل کا کوئی وجود نہیں۔ اس کی تمام تصاویر اور ویڈیوز اے آئی سے بنائی گئی ہیں اور ایک ٹیم اس ڈیجیٹل کردار کو چلاتی ہے۔

اے آئی انفلوئنسر دراصل ڈیجیٹل کردار ہوتے ہیں جنہیں مصنوعی ذہانت کی مدد سے تخلیق کیا جاتا ہے۔

آج کی جدید ٹیکنالوجی سے انسانی چہرہ اور تاثرات، حقیقت سے انتہائی قریب دکھائی دینے والی جاذب نظر شخصیت اور ویڈیوز اتنا آسان کردیا ہے کہ عام صارف کے لیے حقیقی اور مجازی کا فرق پہچاننا مشکل ہو گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اے آئی انفلوئنسر کے تقریباً 300 سبسکرائبرز ہیں۔جو اسے ماہانہ 399 روپے ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ برانڈ پروموشن، ایفلیئیٹ مارکیٹنگ اور اسپانسرڈ پوسٹس سے بھی اضافی آمدن حاصل ہوتی ہے۔

یہ ٹرینڈ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا اب صرف حقیقی لوگوں تک محدود نہیں رہا۔ اے آئی انفلوئنسرز نہ صرف مقبول ہو رہے ہیں بلکہ ایک مکمل بزنس ماڈل بھی بن چکے ہیں۔

انسٹاگرام پر اے آئی انفلوئنسرز کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے، وہیں یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں، کیا وہ واقعی حقیقت ہے؟ آنے والے وقت میں سوشل میڈیا پر حقیقی اور مصنوعی کے درمیان فرق کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔

پاکستان