امریکی پابندیوں کے باوجود چین کیلئے اے آئی چپس کے حصول کا راستہ ہموار؟

ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسین ہوانگ نے کہا ہے کہ مستقبل میں چین کی مارکیٹ اعلیٰ امریکی اے آئی چپس کیلئے کھل سکتی ہے، تاہم اس کا فیصلہ چینی حکومت کرے گی۔

جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جینسین ہوانگ نے کہا کہ این ویڈیا کی طاقتور ایچ 200 اے آئی چپس کو چین میں فروخت کرنے کی اجازت تو موجود ہے، لیکن یہ فیصلہ بیجنگ نے کرنا ہے کہ وہ اپنی مقامی چِپ انڈسٹری کو کس حد تک تحفظ دینا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کا احساس ہے کہ وقت کے ساتھ چینی مارکیٹ مزید کھلے گی۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ یا وزیراعظم لی چیانگ کے ساتھ ایچ 200 چپس کی فروخت پر براہ راست بات نہیں کی۔

جینسین ہوانگ گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ چین گئے تھے جہاں ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔

امریکا اور چین اس وقت مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی میں برتری حاصل کرنے کیلئے سخت مقابلے میں مصروف ہیں۔ واشنگٹن نے قومی سلامتی کے خدشات کے باعث این ویڈیا کی جدید چپس کی چین کو فروخت پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں، تاہم حالیہ مہینوں میں ایچ 200 چپس کیلئے کچھ نرمی سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب چین اپنی مقامی چِپ انڈسٹری کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے تاکہ امریکی ٹیکنالوجی پر انحصار کم کیا جاسکے۔ این ویڈیا کی جدید ترین بلیک ویل اور آنے والی روبن سیریز کی چپس اب بھی چین کے لئے ممنوع ہیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے حالیہ دنوں امریکی کاروباری شخصیات کے وفد سے گفتگو میں کہا تھا کہ چین دنیا کیلئے مزید کھلے گا اور امریکی کمپنیوں کیلئے چین میں روشن مواقع موجود ہوں گے۔

این ویڈیا اس وقت دنیا کی سب سے قیمتی کمپنی سمجھی جارہی ہے، جس کی وجہ مصنوعی ذہانت کیلئے استعمال ہونے والے جدید ہارڈویئر کی بے پناہ عالمی طلب ہے۔