امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں اگلے ماہ شروع ہونے والے فٹبال ورلڈ کپ سے قبل شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حمایت کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر گانے تیار کر رہے ہیں، جو یوٹیوب، ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر کروڑوں بار دیکھے جا رہے ہیں۔
بہت سے شائقین فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی ‘فیفا’ کے آفیشل اینتھم (جسے جیلی رول اور کیرن لیون نے گایا ہے) اور اسٹار گلوکارہ شکیرا کے نئے ٹریک کے مقابلے میں ان اے آئی گانوں کو زیادہ پسند کر رہے ہیں۔
اس رجحان کا آغاز فروری میں فرانسیسی ٹیم کے لیے بنائے گئے ایک گانے امبیٹیبلز سے ہوا، جسے فرانس کے پہلے اے آئی میوزک کریئٹر کرسٹالو نے جاری کیا تھا۔
اس کے بعد برازیل، پرتگال، ارجنٹائن اور جرمنی جیسی بڑی ٹیموں کے لیے بھی اسی طرز پر گانے بنائے گئے۔ ان گانوں میں ایک خاص میوزک بیٹ پر کائلین ایمباپے، کرسٹیانو رونالڈو اور لیونل میسی جیسے اسٹار کھلاڑیوں کے نام پکارے جاتے ہیں اور انہیں ٹیم کا کنگ قرار دیا جاتا ہے۔
جہاں شائقین ان گانوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، وہیں موسیقی کے ماہرین اور کاپی رائٹ کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر سوالات اٹھا رہی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ گانے انسانی تخلیق کی اہمیت، گانے کی ملکیت اور فنکاروں کو معاوضے کی ادائیگی جیسے معاملات پر نئے قانونی تنازعات کھڑے کر رہے ہیں۔
اس کے علاوہ اے آئی گانوں میں کچھ تکنیکی خامیاں بھی سامنے آئی ہیں۔ جیسے پرتگال کے گانے کو برازیلی لہجے میں گایا گیا اور کولمبیا کے کھلاڑی جیمز روڈریگز کا نام ہسپانوی کے بجائے انگریزی لہجے میں پکارا گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان گانوں میں روایتی موسیقی جیسی گہرائی نہیں ہے، لیکن فٹبال شائقین کے لیے وقتی جوش و خروش پیدا کرنے اور نعرے بازی کے لیے یہ موجودہ دور کا ایک مقبول ترین ذریعہ بن چکے ہیں۔











