اہم ترین

اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا عمران خان رہائی کے لیے اقدامات پر اتفاق

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اپوزیشن اتحاد کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اور غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا جو لگ بھگ 8 گھنٹے تک جاری رہا۔

اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بھوک اور افلاس پر تفصیلی غور کیا گیا اور بانی پی ٹی آئی کی فوری رہائی کے لیے تمام ممکنہ سیاسی و قانونی اقدامات تیز کرنے کی متفقہ قرار داد منظور کی گئی۔ قرار داد میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈران پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں آئین کے پرخچے اڑائے جانے پر ہمیں دلی دکھ ہے۔ ہم نے آئین کے دفاع کے لیے پرامن تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں کسی کو گالی نہیں دی جائے گی۔

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنا وزیراعظم کی ذمہ داری ہے، انہیں خود اپوزیشن چیمبر میں آنا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری مذاکرات کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم عزت کے ساتھ بات چیت چاہتے ہیں اور تمام بے گناہ سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا کو بتایا کہ بانی چیئرمین کے ساتھ جیل میں غیر آئینی اور غیر انسانی رویہ رکھا جا رہا ہے اور انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا جا رہا۔ انہوں نے بشریٰ بی بی کی صحت اور سہولیات کی عدم فراہمی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارلیمانی پارٹی کو مائنس بانی پی ٹی آئی کسی صورت منظور نہیں ہے۔

بیرسٹر گوہر نے جمعہ کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی۔ داخلی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شیر افضل مروت کی جانب سے کانسٹیٹوشنل کورٹ میں پٹیشن دائر کرنا ایک سازش ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ خیبر پختونخوا کا وزیراعلیٰ کون ہوگا، اس کا فیصلہ صرف بانی چیئرمین کرتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بانی کی مرضی سے بنے ہیں اور یہ فیصلہ واپس نہیں ہو سکتا۔ اس معاملے پر علی امین گنڈاپور کی وضاحت پر انہوں نے انہیں خراجِ تحسین بھی پیش کیا۔

پاکستان