نیدرلینڈز کی پارلیمنٹ کے ایوانِ نمائندگان نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں تیار کی جانے والی مصنوعات کی درآمد اور فروخت پر پابندی کے حکومتی اقدام کی حمایت کردی ہے۔
ڈچ وزیر برائے خارجہ تجارت سیورڈ سیورڈسما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت اسرائیل کو واضح اور سخت پیغام دے رہی ہے کہ نیدرلینڈز غیرقانونی بستیوں کے قیام اور توسیع میں کسی قسم کا تعاون نہیں کرنا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام عالمی عدالتِ انصاف کے 2024 کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیرقانونی قرار دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق عالمی عدالت نے مغربی کنارے کے بڑے حصوں کے الحاق کو بھی غیرقانونی قرار دیتے ہوئے اس عمل کو روکنے پر زور دیا تھا۔
ڈچ وزیر نے دیگر یورپی ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اسرائیلی بستیوں کے خلاف اسی نوعیت کے اقدامات کریں تاکہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری آبادکاری منصوبے پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔
ڈچ کابینہ کے بیان کے مطابق مجوزہ پابندی کا اطلاق مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں میں قائم اسرائیلی آبادکاروں کی مصنوعات پر بھی ہوگا، جنہیں اسرائیل نے شام سے قبضے میں لیا تھا۔











