پولینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے اسکولوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کرنے اور فحش مواد تک رسائی کے لیے عمر کی تصدیق کے سخت قوانین متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔ مجوزہ اقدامات یکم ستمبر سے نافذ کیے جانے کا منصوبہ ہے۔
پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ اتلی، جنوبی کوریا، اور نیدرلیندز سمیت متعدد ممالک پہلے ہی اسکولوں میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندیاں عائد کر چکے ہیں کیونکہ ان کے تعلیمی اور سماجی اثرات پر خدشات پائے جاتے ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت سات سے 15 سال عمر کے طلبہ کو اسکول کے احاطے میں موبائل فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ پابندی نہ صرف کلاسوں بلکہ وقفوں کے دوران بھی نافذ رہے گی۔
ڈونالڈ ٹسک کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ والدین اور اساتذہ کو بچوں کے ڈیجیٹل استعمال کے حوالے سے زیادہ اختیارات ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل میں آن لائن پلیٹ فارمز، گیمز اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں کی بڑھتی ہوئی لت ایک سنگین سماجی اور تہذیبی مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب وزیر برائے ڈیجیٹل امور کی جانب سے پیش کیے جانے والے ایک علیحدہ بل میں فحش مواد فراہم کرنے والی ویب سائٹس کے لیے عمر کی تصدیق کا نیا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ بچوں کی ایسی ویب سائٹس تک رسائی کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔
حکومت کے مطابق عمر کی تصدیق صرف صارف کے دعوے پر مبنی نہیں ہوگی، جبکہ بائیومیٹرک ڈیٹا یا صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی بھی استعمال نہیں کی جائے گی۔ نظام کو رازداری اور ذاتی معلومات کے تحفظ کے اصولوں کے مطابق تیار کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ پولینڈ کی وزیر تعلیم باربرا نوواکا نے فروری میں یہ تجویز بھی پیش کی تھی کہ 15 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے والدین کے کنٹرول، نگرانی اور محدود رسائی جیسے اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اسمارٹ فونز تعلیم، رابطے اور حفاظتی مقاصد کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے بجائے والدین کے کنٹرول، نگرانی اور محدود رسائی جیسے اقدامات زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ اسمارٹ فونز تعلیم، رابطے اور حفاظتی مقاصد کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔











