اہم ترین

روبو ٹیکسیوں کی لندن میں انٹری، ٹیکنالوجی اور روایتی ٹیکسی انڈسٹری آمنے سامنے

برطانیہ کا دارالحکومت لندن جلد ہی جدید ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے چلنے والی روبو ٹیکسیاں عوامی سڑکوں پر باقاعدہ سروس کا آغاز کریں گی۔ خودکار گاڑیوں کی اس دوڑ میں برطانوی اسٹارٹ اپ وے وے، امریکی کمپنی وےمو اور چینی ٹیکنالوجی کمپنی بیئڈو ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

برطانوی کمپنی وے وے نے رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارم اوبرکے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کی روبو ٹیکسی سروس رواں موسم گرما میں لندن میں تجارتی بنیادوں پر شروع کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں حفاظتی اقدامات کے تحت گاڑی میں ایک انسانی آپریٹر بھی موجود ہوگا۔

لندن کو خودکار گاڑیوں کے لیے دنیا کے مشکل ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تنگ اور پرانی سڑکیں، مسلسل تعمیراتی کام، پیچیدہ چوراہے اور پیدل چلنے والوں کی بڑی تعداد ایسی رکاوٹیں ہیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی نظاموں کے لیے بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہیں۔

وے وے کے مطابق لندن میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کی سرگرمیاں سان فرانسسکو کے مقابلے میں بیس گنا زیادہ ہیں، جبکہ حساس ٹریفک صارفین، جیسے سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کی تعداد بھی کہیں زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کے جدید سینسرز اور اے آئی سسٹمز ان پیچیدہ حالات میں محفوظ ڈرائیونگ کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب وےمو، جو امریکہ کے متعدد شہروں میں پہلے ہی روبو ٹیکسی خدمات فراہم کر رہی ہے، جلد برطانیہ میں بھی اپنی موجودگی بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اسی طرح بائیڈو نے رائیڈ شیئرنگ کمپنی لفٹ کے تعاون سے لندن میں آزمائشی مرحلہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد رواں سال کے دوران باقاعدہ سروس متعارف کرائی جا سکتی ہے۔

برطانوی حکومت خودکار گاڑیوں کی صنعت کو مستقبل کے ایک بڑے معاشی شعبے کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ حکومتی اندازوں کے مطابق 2035 تک یہ شعبہ تقریباً 38 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کر سکتا ہے اور ملکی معیشت میں 42 ارب پاؤنڈ سے زائد کا اضافہ کر سکتا ہے۔

تاہم اس ٹیکنالوجی کو عوامی قبولیت حاصل کرنے کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ برسوں میں مختلف کمپنیوں کی خودکار گاڑیوں کے بعض تکنیکی مسائل اور حادثات نے حفاظتی خدشات کو جنم دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روبو ٹیکسی انڈسٹری کے لیے حفاظت سب سے اہم مسئلہ ہے، کیونکہ ایک بڑا حادثہ عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

لندن کی روایتی ٹیکسی انڈسٹری بھی اس پیش رفت کو محتاط نظروں سے دیکھ رہی ہے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کے نمائندوں کا مؤقف ہے کہ روبو ٹیکسیاں فی الحال ایک ایسی ٹیکنالوجی ہیں جو عملی ضرورت سے زیادہ ایک تجربہ معلوم ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لندن جیسے مصروف شہر میں مکمل خودکار گاڑیوں کو حقیقی دنیا کے پیچیدہ حالات میں خود کو ثابت کرنا ہوگا۔

ماہرین کے مطابق اگر ابتدائی آزمائشیں کامیاب رہیں تو لندن نہ صرف برطانیہ بلکہ پورے یورپ میں خودکار ٹرانسپورٹ کے انقلاب کا مرکز بن سکتا ہے، جہاں مستقبل میں بغیر ڈرائیور ٹیکسیاں روزمرہ زندگی کا معمول بن جائیں گی۔

پاکستان