اہم ترین

اے آئی کا غبارہ پھٹنے والا ہے؟ماہرین نے بدترین مالیاتی بحران سے خبردار کر دیا

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے شعبے میں تیزی سے بڑھتی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے وابستہ سرمایہ کاری کا موجودہ رجحان “بلبلہ” ثابت ہوا اور اچانک پھٹ گیا تو اس کے اثرات ماضی کے بڑے مالیاتی بحرانوں سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتے ہیں۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے وارٹن اسکول سے وابستہ مالیاتی ماہر اٹائے گولڈسٹین کے مطابق کئی ایسے اشارے موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مالیت اپنی حقیقی قدر سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ کی پانچ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 18 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے، جو دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہونے والے چین کی مجموعی اقتصادی پیداوار کے قریب ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل یہی کمپنیاں اپنے حصص واپس خرید رہی تھیں، جو اضافی نقد وسائل کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر اب یہی ادارے مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کے لیے قرض لینے پر مجبور ہیں۔ اگر امریکی فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود بڑھاتا ہے تو ان قرضوں کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اسی دوران خلائی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ کمپنی اسپیس ایکس نے 25 ارب ڈالر کے بانڈز جاری کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا، جس کے بعد کمپنی کے حصص میں کمی دیکھی گئی اور سرمایہ کاروں میں اس کی مالی پوزیشن سے متعلق سوالات بھی اٹھنے لگے۔

تجزیہ کاروں نے ایک اور رجحان، جسے “سرکلر فنانسنگ” کہا جا رہا ہے، پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ اس ماڈل میں بڑی ٹیک کمپنیاں اے آئی اسٹارٹ اپس میں سرمایہ لگاتی ہیں، جبکہ یہی اسٹارٹ اپس بعد ازاں اسی سرمایہ سے انہی بڑی کمپنیوں کی مصنوعات اور خدمات خریدتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار مستقبل میں مالیاتی خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔

اگرچہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ مندی صرف منافع لینے اور بلند شرح سود کے خدشات کا عارضی ردعمل ہے، نہ کہ کسی بڑے بحران کی شروعات، تاہم کئی اشارے احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں۔

سافٹ ویئر اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کی معروف کمپنی اوریکل کے حصص صرف پانچ دنوں میں 19 فیصد گر گئے، جو ڈاٹ کام بحران کے بعد اس کی بدترین ہفتہ وار کارکردگی قرار دی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کا یہ بلبلہ واقعی پھٹ گیا تو اس کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی مالیاتی منڈیوں، سرمایہ کاروں اور ریٹائرمنٹ فنڈز سمیت لاکھوں عام افراد کی مالی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان