مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد جموں کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور اگر ایسا نہ ہوسکا تو ہر 3ماہ میں آزاد کشمیر کا دورہ کریں گے۔
مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کوہالہ سے مظفرآباد تک کی سڑک آج بھی ویسی ہی ہے جیسی 10، 20 اور 30 سال پہلے تھی۔ پاکستان میں موٹرویز بن گئیں، ایکسپریس ویز بن گئیں، پھر کوہالہ سے مظفرآباد موٹروے کیوں نہ بن سکی؟ خواہش ہے کہ مانسہرہ سے مظفرآباد اور مظفرآباد سے میرپور تک دریائے جہلم کے ساتھ ایک خوبصورت موٹروے بنے۔
مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر ان کے لیے دوسرے گھر کی حیثیت رکھتا ہے اور جس طرح پنجاب عزیز ہے، اسی طرح آزاد کشمیر بھی ان کے دل کے قریب ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تو وہ ہر تین ماہ بعد خود آکر ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ لیں گے اور علاقے کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت بنی تو آزاد کشمیر کے مسائل حل کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں گے۔ ماضی میں ان کی حکومت نے آزاد کشمیر کا بجٹ دوگنا کیا تھا، جبکہ آئندہ حکومت بنی تو بجٹ میں کئی گنا اضافہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر میں بھی پنجاب کی طرز پر بڑے ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں گے، جن میں موٹروے جیسے منصوبے بھی شامل ہیں۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ دریائے جہلم کے ساتھ خوبصورت موٹروے تعمیر ہونی چاہیے جبکہ مظفرآباد کے لیے گرین بس سروس اور موبائل اسپتالوں کے منصوبے بھی شروع کیے جا رہے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ پنجاب میں جاری ترقیاتی کاموں میں شہباز شریف اور مریم نواز کا اہم کردار ہے اور انہوں نے مریم نواز کو ہدایت کی ہے کہ پنجاب کی طرح آزاد کشمیر میں بھی ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دی جائے۔










