اہم ترین

قائداعظم مزار بورڈ کی بغیر اجازت 68 کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کا انکشاف

قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ کی مالی سرگرمیوں سے متعلق آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بورڈ نے وزارت خزانہ کی پیشگی اجازت کے بغیر سرکاری خزانے کی 68 کروڑ 13 لاکھ روپے کی سرمایہ کاری مختلف سرکاری بانڈز اور مالیاتی اسکیموں میں کی، جو سرکاری قوانین اور مالیاتی ضوابط کی خلاف ورزی قرار دی گئی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے مئی 2022 میں تمام سرکاری اداروں کو ہدایت جاری کی تھی کہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بغیر کسی بھی سرکاری فنڈ کی سرمایہ کاری نہیں کی جا سکتی، تاہم قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ نے اس پابندی کے باوجود مختلف مراحل میں سرمایہ کاری جاری رکھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 23 جنوری 2025 کو 43 کروڑ 13 لاکھ روپے، 6 مارچ 2025 کو 10 کروڑ 7 لاکھ روپے اور 17 اپریل 2025 کو مزید 14 کروڑ 99 لاکھ روپے مختلف سرمایہ کاری اسکیموں میں لگائے گئے۔

آڈٹ رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بورڈ نے وزارت خزانہ کی منظوری کے بغیر 7 کروڑ 92 لاکھ روپے مختلف بینک اکاؤنٹس میں رکھے اور یہ اکاؤنٹس بھی وزارت کو اعتماد میں لیے بغیر چلائے جاتے رہے۔

مزار انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ قائداعظم مزار مینجمنٹ بورڈ ایک خودمختار ادارہ ہے اور رقم محفوظ سرمایہ کاری اور بہتر منافع کے حصول کے لیے لگائی گئی، جبکہ بینک اکاؤنٹس پرانے قوانین کے تحت سندھ کے اکاؤنٹنٹ جنرل کی نگرانی میں چل رہے ہیں۔

تاہم آڈٹ حکام نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پرانے قوانین اب مؤثر نہیں رہے، اس لیے پابندی کے بعد وزارت خزانہ سے باقاعدہ منظوری لینا لازمی تھا۔

آڈٹ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بورڈ فوری طور پر تمام بینک اکاؤنٹس کی وزارت خزانہ سے منظوری حاصل کرے، بصورت دیگر اکاؤنٹس بند کر کے تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے، جبکہ غیر مجاز سرمایہ کاری کے معاملے پر بھی متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کی جائے۔

پاکستان