شمالی کوریا نے ایک بار پھر بیلسٹک میزائل کا تجربہ کر دیا ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج کے مطابق پیانگ یانگ نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل بحیرہ جاپان کی جانب داغا۔
جنوبی کوریا کے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے مطابق میزائل شمالی کوریا کے شہر وونسان کے علاقے سے مقامی وقت کے مطابق شام پانچ بجے فائر کیا گیا۔ جنوبی کوریا اور امریکا میزائل کی نوعیت، فاصلے اور دیگر تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ تجربہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا نے جاپان کی بڑھتی ہوئی دفاعی صلاحیتوں پر تنقید کی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کی بااثر بہن کم یو جونگ نے جاپان کی فوجی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ پیانگ یانگ اپنی دفاعی حکمت عملی میں مزید اقدامات کرے گا۔
جاپان کی وزارت دفاع نے بھی میزائل لانچ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا سے ایک ممکنہ بیلسٹک میزائل داغا گیا، تاہم اس سے جاپانی علاقے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
جنوبی کوریا نے نگرانی بڑھا دی ہے جبکہ امریکا اور جاپان کے ساتھ معلومات کا تبادلہ جاری ہے۔ رواں ماہ جنوبی کوریا اور امریکا کی سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں بھی متوقع ہیں، جنہیں شمالی کوریا ماضی میں حملے کی تیاری قرار دیتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کا حالیہ میزائل تجربہ روس کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر پیانگ یانگ اپنی دفاعی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا چاہتا ہے۔
دوسری جانب جاپان نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کی دفاعی تیاریوں کا مقصد کسی ملک کو خطرہ بنانا نہیں بلکہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، جبکہ خطے میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔











