اہم ترین

اومان کے ساحل پر تیل بردار جہاز سے رِساؤ:سمندری حیات سنگین خطرات کا شکار

پاکستان سے قریب ترین خلیجی ملک اومان کے جنوبی ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز سے مسلسل تیل کے اخراج نے بڑے ماحولیاتی بحران کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔ ماحولیاتی تنظیموں کے مطابق تیل کا پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اگر فوری کارروائی نہ کی گئی تو خطے کی سمندری حیات، ساحلی ماحول اور ماہی گیری شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمان کے قریب پھنسے ہوئے کیرولین بیزینگی نامی آئل ٹینکر سے تیل مسلسل سمندر میں پھیل رہا ہے۔ گرین پیس کا کہنا ہے کہ جولائی کے آخر میں تقریباً 20 مربع کلومیٹر پر محیط آئل اسپِل چند روز میں بڑھ کر تقریباً 600 مربع کلومیٹر تک پہنچ چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ جہاز روس سے خام تیل لے کر روانہ ہوا تھا اور جون میں اس پر ہونے والے تین دھماکوں کے بعد اس کا انجن اور اسٹیئرنگ نظام ناکارہ ہو گیا، جس کے باعث یہ اومان کے ساحل کے قریب پھنس گیا۔ دھماکوں کی وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔

ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جہاز مکمل طور پر ٹوٹ گیا تو تیل کی بڑی مقدار سمندر میں پھیل سکتی ہے، جس سے اومان کے ماہی گیر، مرجانی چٹانیں، سمندری گھاس، نایاب کچھوے، آبی پرندے اور عربی سمندر کی نایاب ہمپ بیک وہیل سمیت متعدد محفوظ سمندری انواع کو شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (آئی ایم او) نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے میں عمان کو تکنیکی معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ ماحولیاتی تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئل ٹینکر کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کر کے تیل کے اخراج کو روکا جائے تاکہ ممکنہ ماحولیاتی تباہی سے بچا جا سکے۔

پاکستان