اسپین کے معروف سیاحتی شہر غرناطہ میں ہفتے کی علی الصبح 5.0 شدت کے زلزلے نے شہریوں کو خوف زدہ کر دیا۔ زلزلے کے باعث بعض عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ ملبہ، دیواروں کے ٹکڑے اور دیگر تعمیراتی اجزا گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، تاہم حکام کے مطابق کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
اسپین کے نیشنل جیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ کے مطابق زلزلہ رات ایک بجے کے کچھ دیر بعد آیا اور اس کا مرکز گریناڈا سے تقریباً 10 کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے الہینڈین میں تھا۔
اندلس کی ایمرجنسی سروسز کے مطابق فائر سروس کو تقریباً 300 ہنگامی کالز موصول ہوئیں جبکہ اہلکاروں نے 85 کارروائیاں کیں، جن میں زیادہ تر گریناڈا کے جنوبی علاقوں اور شہری مضافات میں کی گئیں۔
اندلس کے اعلیٰ ہنگامی امور کے عہدیدار انتونیو سانز نے کہا کہ زلزلے سے کوئی سنگین ساختی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع بھی نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخی الحمراء محل بھی زلزلے سے محفوظ رہا ہے۔
الحمراء محل غرناطہ کی سب سے معروف تاریخی علامت اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہے۔ یہ قرونِ وسطیٰ کے اسلامی طرزِ تعمیر کا ایک نمایاں شاہکار ہے اور اسپین میں مسلم حکمرانی کے آخری دور کی اہم یادگاروں میں شمار ہوتا ہے۔
زلزلے کے بعد اسپین کے میڈیا پر جاری تصاویر میں غرناطہ کی سڑکوں پر ملبہ اور بعض گاڑیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے دکھائی دیے۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ زلزلے کے جھٹکے اتنے شدید تھے کہ وہ نیند سے جاگ گئے۔
حکام نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عمارتوں کا معائنہ جاری ہے اور آفٹر شاکس کا امکان موجود ہے۔ سانز کے مطابق اندلس میں اس شدت کا آخری زلزلہ 1955 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔
زلزلے کے باعث شہریوں میں پائی جانے والی گھبراہٹ اور بے چینی سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیلی فون لائن بھی قائم کی گئی ہے۔











