حوثیوں کا سعودی تنصیبات پر حملہ: سعودی عرب کی جوابی کارروائی کا انتباہ

یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر کئی برس کے دوران کیے گئے شدید ترین حملے کے بعد ریاض نے بھرپور جوابی کارروائی کا عندیہ دے دیا ہے۔ سعودی حکام کے مطابق میزائل حملوں سے متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی جبکہ 73 افراد زخمی ہوئے۔

رات گئے ہونے والے حملوں کے باعث سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں تیل اور توانائی کے شعبے کی بعض تنصیبات پر کام عارضی طور پر روکنا پڑا۔ سعودی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ گروپ نے درجنوں بیلسٹک میزائل فائر کیے، جن میں ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کنگ خالد ایئربیس اور ابہا و جازان میں سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

جازان بحیرہ احمر کے ساحل پر یمن کی سرحد کے قریب واقع ہے اور یہاں سعودی عرب کی بڑی آئل ریفائنریوں میں سے ایک موجود ہے، جس کی یومیہ پیداواری صلاحیت تقریباً 4 لاکھ بیرل ہے۔

تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ

توانائی تنصیبات پر تازہ حملوں سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث پہلے ہی خلیجی ممالک سے تیل کی ترسیل شدید متاثر ہے، ایسے میں سعودی تنصیبات پر حملے عالمی توانائی سپلائی کے لیے نئی تشویش بن گئے ہیں۔

حوثیوں نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر میں سعودی تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ یہ راستہ عالمی سطح پر تیل کی برآمد کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

یمن میں دوبارہ جنگ شدت اختیار کرگئی

حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز کے درمیان چار سالہ جنگ بندی جولائی میں ختم ہونے کے بعد ایک بار پھر شدید جھڑپیں شروع ہوچکی ہیں۔ باب المندب کے اطراف حالیہ لڑائی میں سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

تازہ حملوں سے ایک روز قبل حوثیوں نے سعودی عرب پر جیل پر حملے کا الزام بھی عائد کیا تھا، جس میں ان کے مطابق 11 افراد ہلاک اور 20 قیدی لاپتا ہوئے۔ منظرعام پر آنے والی تصاویر میں امدادی کارکنوں کو ملبے میں زندہ افراد تلاش کرتے اور لاشیں نکالتے دیکھا گیا۔

سعودی اتحاد کا بھی جوابی کارروائی کا اعلان

سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے بھی حوثیوں کے تازہ حملوں کا جواب دینے کا اعلان کردیا ہے۔ اتحاد کی جوائنٹ فورسز کمانڈ کے مطابق خطرے کے ذرائع کے خلاف ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ان کے خطرے کو ختم کیا جائے گا۔

خلیجی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ کے مطابق حوثیوں کے حملے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے لیے ایک مشکل صورتحال پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے بقول ریاض طویل عرصے سے یمن کی جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن مسلسل حملے سعودی عرب کے لیے تحمل برقرار رکھنا مشکل بنا سکتے ہیں۔

ماہر کے مطابق ابتدائی طور پر سعودی ردعمل محدود فضائی حملوں، انٹیلی جنس معاونت اور یمنی حکومتی فورسز کو مزید مضبوط بنانے تک رہنے کا امکان ہے، تاہم اگر سعودی شہروں پر حملے جاری رہے تو ریاض کے لیے اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔