بچوں کا تحفظ: آسٹریلیا میں سوشل میڈیا کمپنیوں پر سخت قانون نافذ کرنے کی تیاری

آسٹریلیا نے بچوں کو نقصان دہ آن لائن مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے بڑی ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف سخت قانون سازی کا مسودہ پیش کردیا ہے۔ وزیراعظم انتھونی البانیزے کے مطابق خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کو 10 کروڑ 90 لاکھ آسٹریلوی ڈالر، یعنی تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ امریکی ڈالر تک جرمانہ ہوسکتا ہے۔

نئے مجوزہ قوانین کے تحت فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 18 سال سے کم عمر صارفین کے تحفظ کی باقاعدہ ذمہ داری عائد کی جائے گی۔

کمپنیوں کو بچوں کو فحش مواد، آن لائن ہراسانی، جرائم کی تشہیر یا ایسے مواد سے محفوظ رکھنا ہوگا جو کھانے کی خطرناک عادات اور کھانے کی خرابیوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہو۔

وزیراعظم انتھونی البانیزے نے کہا کہ حکومت نے یہ قدم اس لیے اٹھایا کیونکہ عوام مزید نقصان برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بقول آسٹریلوی بچوں کو ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے محض ایک تجارتی چیز کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

الگورتھمز بھی قانون کے دائرے میں

مجوزہ قانون میں سوشل میڈیا کے طاقتور الگورتھمز سے متعلق بھی اہم شق شامل کی گئی ہے۔ پلیٹ فارمز کو صارفین کو یہ اختیار دینا ہوگا کہ وہ اپنی پسند اور سابقہ سرگرمیوں کی بنیاد پر مواد تجویز کرنے والے الگورتھمز سے دستبردار ہوسکیں۔

اس کا مطلب ہے کہ میٹا جیسی کمپنیوں کو صارفین کو فیس بک اور انسٹاگرام پر ذاتی پسند کے مطابق مواد تجویز کرنے والے نظام کو بند کرنے کا آپشن دینا ہوگا۔

آسٹریلیا کی وزیر مواصلات انیکا ویلز نے کہا کہ بڑی ٹیک کمپنیوں کو اب اپنے طرزِ عمل پر جواب دینا ہوگا۔ ان کے مطابق ان پلیٹ فارمز نے لوگوں کی روزمرہ زندگی میں غیر معمولی حد تک جگہ بنا لی ہے، جس کے مثبت پہلوؤں کے ساتھ سنگین منفی نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔

بچوں پر پابندی کے بعد نیا قدم

یہ مجوزہ قانون آسٹریلیا کی جانب سے گزشتہ سال نافذ کیے گئے دنیا کے پہلے 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کے بعد ایک اور بڑا قدم ہے۔

تاہم حالیہ اعداد و شمار کے مطابق پابندی کے باوجود آسٹریلیا میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی جانب سے انسٹاگرام اور ٹک ٹاک سمیت سوشل میڈیا ایپس کا استعمال بڑھ رہا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ مجوزہ قانون رواں سال کے آخر میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس سے قبل سوشل میڈیا کمپنیوں، ٹیکنالوجی انڈسٹری اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سے مشاورت کی جائے گی۔