برطانیہ میں لاعلاج مریض کو مرنے میں مدد فراہمی کا قانون مسترد

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ نے شدید بحث اور جذباتی ماحول کے بعد مرنے کے لئے معاونت کی فراہمی کو قانونی قرار دینے کا متنازع بل مسترد کردیا۔

برطانوی ایوانِ زیریں (دارالعوام) میں جمعے کو ہونے والی انتہائی معمولی فرق سے کامیاب ووٹنگ میں 286 ارکان نے بل کی مخالفت جبکہ 270 نے حمایت کی۔ یوں بل صرف 16 ووٹوں کے فرق سے مسترد ہوگیا۔

ٹرمینلی ال ایڈلٹس (اینڈ آف لائف) بل کے تحت انگلینڈ اور ویلز میں ایسے بالغ افراد کو اپنی زندگی ختم کرنے میں طبی معاونت حاصل کرنے کی اجازت دی جانی تھی جن کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہو کہ ان کی زندگی کے چھ ماہ سے بھی کم رہ گئے ہیں اور وہ اپنی خواہش واضح طور پر بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مجوزہ قانون کے مطابق کسی درخواست پر عمل درآمد سے قبل دو ڈاکٹروں اور ایک ماہر پینل کی منظوری ضروری ہوتی۔ حامیوں کا مؤقف تھا کہ اس قانون کے ذریعے شدید اور ناقابلِ علاج بیماری میں مبتلا افراد کو اپنی زندگی کے آخری مرحلے کے حوالے سے انتخاب کا حق ملتا۔

تاہم مخالفین نے قانون میں موجود حفاظتی انتظامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کمزور، معذور یا عمر رسیدہ افراد پر بالواسطہ دباؤ ڈالے جانے کا خدشہ موجود ہے اور مجوزہ قانون انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بل کے مخالف گروپ کیئر ناٹ کل کے گورڈن میکڈونلڈ نے ووٹنگ کے نتیجے کو فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ نے مجوزہ قانون کے حفاظتی اقدامات سے متعلق خدشات کو سمجھ لیا ہے۔

دوسری جانب بل کے حامیوں نے فیصلے پر شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ معاونت سے موت کے حق میں مہم چلانے والی تنظیم ڈگنیٹی ان ڈائنگ نے اسے شدید دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ختم نہیں ہوا اور اس حوالے سے جدوجہد جاری رہے گی۔

برطانوی ٹیلی ویژن کی معروف شخصیت ایسٹر رینٹزن، جو خود ایک ٹرمینل بیماری کی تشخیص سے گزر رہی ہیں، کی بیٹی ربیکا ولکوکس نے بھی فیصلے پر افسوس کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق ان کی والدہ نے اس دن کو ایک المناک دن قرار دیا ہے، تاہم انہوں نے مستقبل میں بھی اس قانون کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

یہ معاملہ برطانوی پارلیمنٹ میں طویل عرصے سے زیر بحث ہے۔ گزشتہ سال ہاؤس آف کامنز نے اسی نوعیت کے بل کی ابتدائی منظوری دی تھی، تاہم بعد میں ہاؤس آف لارڈز میں ایک ہزار سے زائد ترامیم کے باعث قانون سازی کا عمل رک گیا تھا۔

ادھر اگست کے آخر میں ہونے والے ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 16 سے 75 سال عمر کے تقریباً دو تہائی افراد نے معاونت سے موت کی مجوزہ قانون سازی کی حمایت کی تھی۔

برطانیہ کے دیگر حصوں میں بھی اس معاملے پر پیش رفت مختلف رہی ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں رواں سال معاونت سے موت کو قانونی حیثیت دینے کا بل مسترد کیا جاچکا ہے، جبکہ برطانوی زیر انتظام جرسی اور آئل آف مین میں ایسی قانون سازی منظور ہوچکی ہے، تاہم وہاں بھی شاہی منظوری کا مرحلہ باقی ہے۔