ایران نے سعودی عرب کے خلاف یمنی حوثیوں کی مدد سے تردید کردی

یمن کے حوثی جنگجوؤں نے سعودی عرب کے فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کی نئی لہر شروع کردی، جبکہ ایران نے یمن میں جاری دوبارہ بھڑکنے والی جنگ میں براہ راست مداخلت کی تردید کردی ہے۔

حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں واقع کنگ خالد ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔ حملوں میں لڑاکا طیاروں کے ہینگرز، ریڈارز، رن ویز اور اسلحے کے گوداموں کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا جانب سعودی سول ڈیفنس نے خمیس مشیط اور ابہا کے شہریوں کو مختصر الرٹس جاری کیے گیا ہے۔

حوثیوں کا کہنا ہے کہ سعودی حملوں کے جواب میں درجنوں ڈرونز اور میزائل داغے گئے۔ دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے خمیس مشیط اور ابہا کے شہریوں کو مختصر الرٹس جاری کیے۔

خمیس مشیط کے ایک رہائشی نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ علاقے میں شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کافی دیر تک آگ دوران یمن میں 300 سے زائد فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یمنی حکومت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز میں حوثیوں سے متعدد اہم مقامات واپس لے لیے ہیں، جبکہ فضائی حملوں میں کے شعلے نظر آتے رہے۔

حوثیوں نے سعودی عرب پر گزشتہ پانچ روز کے دوران یمن میں 300 سے زائد فضائی حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یمنی حکومت کی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے صوبہ تعز میں حوثیوں سے متعدد اہم مقامات واپس لے لیے ہیں، جبکہ فضائی حملوں میں کم از کم 10 جنگجوؤں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

ایران کا مؤقف

ایران نے یمن کی تازہ کشیدگی میں مداخلت کے الزامات مسترد کردیئے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران یمن کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتا اور حوثی ایک آزاد قوت ہیں جو اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔

ایران طویل عرصے سے حوثیوں کی حمایت کرتا آیا ہے اور انہیں ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی کی فراہمی کے الزامات کا سامنا ہے، تاہم تجزیہ کار یمن میں حالیہ فوجی کارروائیوں پر تہران کے براہ راست اثر و رسوخ کی حد کے حوالے سے مختلف آرا رکھتے ہیں۔