ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کی سزائیں معطل، دونوں رہائی کا حکم

سپریم کورٹ نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سوشل میڈیا کیس میں سنائی گئی سزائیں معطل کرتے ہوئے دونوں کی رہائی کا حکم دے دیا۔

ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو 23 جنوری 2026 کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور مبینہ طور پر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسیوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں سیشن کورٹ نے دونوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سن سے درج ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں ایشن کے صدر سے ہاتھا پائی کے الزام میں درج مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

بعد ازاں سوشل میڈیا پوسٹس کے مقدمے میں سیشن کورٹ نے دونوں کو مجرم قرار دیتے ہوئے مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔

عدالت نے دونوں کی ضمانت 2،2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض منظور کی اور قرار دیا کہ یہ ریلیف اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت مقدمے کے حتمی فیصلے تک برقرار رہے گا۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے سپریم کورٹ کے سابقہ حکم کے بعد ہونے والی پیش رفت سے عدالت کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہونے والی مختلف سماعتوں کی آرڈر شیٹس بھی عدالت کے سامنے پیش کیں۔

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے وکیل فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت متعدد مرتبہ ملتوی ہوئی، جبکہ جلد سماعت کی درخواست بھی ہائی کورٹ کے رجسٹرار نے مسترد کردی۔
وکیل کے دلائل پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ آج کل سرپرائزز کا دور ہے۔

جسٹس نعیم اختر افغان نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے دونوں کی رہائی کا حکم دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں وکیل ہیں، اس لیے ان کی عزت کا خیال رکھا جا رہا ہے، تاہم انہیں بھی عدالت کے ڈیکورم کا خیال رکھنا چاہیے۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ وکیل اور ایک عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔