مصنوعی ذہانت (اے آئی ) سے انسانیت کے خاتمے کے خدشات نے ایک بار پھر زور پکڑ لیا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں محققین کی وارننگز اور اے آئی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے ترقی سست کرنے کے مشوروں کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر اے آئی بے قابو ہو جائے تو کیا ہم اسے بند بھی کر پائیں گے؟
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اے آئی کمپنی کے شریک بانی نے بتایا تھا کہ اے آئی سسٹمز کے لیے کل سوئچ کو لازمی قرار دینا چاہیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی اے آئی کو بند کرنا ممکن ہے؟کل سوئچ ہے کیا؟
ٹورنٹو یونیورسٹی کے پروفیسر اور اے آئی سائبر سکیورٹی کے ماہر نکولس پیپرنوٹ نے بتایا کہ سائبر سکیورٹی کی زبان میں کل سوئچ سے مراد اے آئی ایجنٹ کے کسی بھی عمل کو درمیان میں روکنے کی صلاحیت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس شخص یا ادارے نے اے آئی ایجنٹ تعینات کیا ہے، وہ اسے چلانے کے لیے درکار کمپیوٹنگ پاور تک رسائی ختم کر کے اسے روک سکتا ہے۔لیکن معاملہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب پروگرام کو اپنے ابتدائی ماحول سے باہر کام کرنے کی اجازت دی گئی ہو۔
نکولس پیپرنوٹ نے ایک منظر پیش کیا جس میں اے آئی کو کمپیوٹر وارم یعنی خود سے پھیلنے والا وائرس پھیلانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں وارم کی بنائی ہوئی تمام کاپیوں کو ایک ساتھ، ہر ڈیوائس پر جا کر روکنا پڑے گا۔کیا ہم واقعی اے آئی کو سوئچ آف کر سکتے ہیں؟
فرانسیسی نیشنل سینٹر فار سائنٹیفک ریسرچ (سی این آر ایس) کے اے آئی ماہر تھیری پوئبو نے کہا کہ ایک بٹن سے پوری اے آئی بند کرنے کا تصور گمراہ کن ہے۔ انہوں نے کہا “آپ اے آئی کو اس طرح بند نہیں کر سکتے۔ دنیا بھر میں بے شمار کمپنیاں، مختلف سافٹ ویئر اور سروسز ہیں۔ کوئی ایک شخص پوری اے آئی کو کنٹرول نہیں کرتا۔ تاہم اگر آپ ان مشینوں اور سروسز کو کنٹرول کرتے ہیں جن پر کوئی مخصوص سسٹم انحصار کرتا ہے تو اسے بند کرنا ممکن ہے۔
یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کینبرا کے کمپیوٹر سائنس پروفیسر حسین عباس نے لنکڈ ان پر لکھا کہ اے آئی سسٹمز کو پیچیدگی کے تین درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
پہلا درجہ وہ مرکزی نظام ہے جو مکمل طور پر آپریٹر کے کنٹرول میں ہو، اس میں ایمرجنسی شٹ ڈاؤن نظریاتی اور عملی طور پر ممکن ہے۔ لیکن دیگر دو غیر مرکزی درجوں میں جہاں اے آئی کو دوسرے سافٹ ویئر، فائلز اور مشینوں پر کام کرنے کی اجازت ہو، وہاں سب کچھ روکنا بہت زیادہ مشکل ہو جائے گا۔
کل سوئچ کے خطرات کیا ہیں؟
ماہرین کے مطابق اے آئی جتنا زیادہ ہماری روزمرہ زندگی میں شامل ہوگا، اسے بند کرنے کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا کیونکہ اس سے جائز استعمال بھی مفلوج ہو جائیں گے۔
پنکولس یپرنوٹ نے کہا جیسے جیسے اے آئی ہمارے تمام اداروں اور کاروباروں میں شامل ہو رہا ہے اور ہم روزمرہ زندگی کے زیادہ سے زیادہ پہلوؤں کو اے آئی سے خودکار بنا رہے ہیں، کمپیوٹنگ پاور کو بطور کل سوئچ استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا، کیونکہ اس کا مطلب ہوگا کہ وہ تمام جائز کام بھی رک جائیں گے”۔
اے آئی سسٹم کو روکنے سے کاروبار، سرکاری انتظامیہ یا صحت کے اداروں کی وہ خدمات بھی متاثر ہو سکتی ہیں جو پہلے سے اس پر انحصار کر رہی ہیں، جس کی قیمت اور نقصانات بہت زیادہ ہوں گے۔
دوسری جانب بعض اہم شخصیات نے اے آئی کے خوف کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے خبردار کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کے وجودی خطرات کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جبکہ میٹا کے سی ای او مارک زکربرگ نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کے مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مارکیٹ مراعات اور قانونی ذمہ داری بہترین حفاظتی اقدامات ہیں۔
سوربون یونیورسٹی کے کمپیوٹر سائنس کے پروفیسر ژاں گیبریل گناسیا کے مطابق کل سوئچ کی بحث اس گمراہ کن خیال کو ہوا دیتی ہے کہ اے آئی کا سب سے بڑا خطرہ اس کی اپنی مرضی پیدا کر لینا ہے۔ اصل اور ٹھوس خطرہ ہمارا ان سسٹمز پر بڑھتا ہوا انحصار ہے۔


