غزہ کے بچوں کی اسرائیلی خوف کے سائے میں اسکول واپسی

اسرائیلی بربریت تھمنے کے بعد غزہ کے بچوں نے ایک بار پھر اسکول جانا شروع کردیا ہے لیکن جنگ کے سائے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ کلاس رومز میں واپسی کی خوشی اس وقت خوف میں بدل گئی جب قریب ہی ایک حملے کی آواز سنائی دی۔

غزہ گریٹ مائنڈز فاؤنڈیشن کے بانی احمد ابو رزیق نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ بچوں کے چہروں پر اسکول واپسی کی خوشی نمایاں تھی، مگر قریب ہونے والے حملے کی آواز نے ماحول بدل دیا۔انہوں نے کہا کہ بچوں کے چہروں کی مسکراہٹ اچانک خوف میں تبدیل ہوگئی۔

والدین بھی پریشان

ابو رزیق کے مطابق مسلسل اسرائیلی حملوں کے باعث والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کے حوالے سے بدستور فکرمند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امید ہے نیا تعلیمی سال گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بہتر ہوگا۔

لاکھوں بچے تعلیم سے محروم

یونیسیف کے مطابق غزہ میں 4 لاکھ 20 ہزار سے زیادہ بچے تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں، جبکہ غزہ کے 98 فیصد اسکول متاثر یا تباہ ہوچکے ہیں۔

اساتذہ کی ایک ہی دعا

احمد ابو رزیق نے امید ظاہر کی کہ غزہ کے اساتذہ کی طرح وہ بھی چاہتے ہیں کہ تعلیمی دن بغیر کسی بچے یا طالب علم کو کھوئے گزر جائے۔

اسکول کھل گئے ہیں، بچے واپس آگئے ہیں، مگر ان کے لیے کتابوں کے ساتھ خوف بھی کلاس روم تک پہنچ رہا ہے۔