روس پارلیمانی انتخابات: سائبر اور ڈرون حملوں کے باوجود پیوتن کی جماعت پھر فاتح

یونائیٹڈ رشیا کو 57.5 فیصد ووٹ ملنے کا دعویٰ، پارلیمان میں دو تہائی اکثریت برقرار رہنے کا امکان، جنگ مخالف جماعت یابلونکو انتخابی دوڑ سے باہر

ماسکو: روس میں پارلیمانی انتخابات کے ابتدائی نتائج کے مطابق صدر ولادیمیر پیوٹن کی حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا نے واضح برتری حاصل کرلی ہے۔ سرکاری میڈیا کے مطابق 71 فیصد سے زائد ووٹوں کی گنتی کے بعد جماعت کو 57.5 فیصد ووٹ ملے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی 14 فیصد اور قوم پرست جماعت ایل ڈی پی آر 8.7 فیصد ووٹوں کے ساتھ پیچھے ہیں۔

یہ انتخابات 2022 میں یوکرین پر روس کے بڑے پیمانے پر حملے کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ ووٹنگ کے دوران سائبر حملوں اور یوکرینی ڈرون حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ انتخابی عمل پر سیاسی مخالفت اور جنگ مخالف جماعتوں کی شرکت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔

روس کے الیکشن حکام کے مطابق حکمراں جماعت پارلیمان کے ایوانِ زیریں اسٹیٹ ڈوما کی 450 نشستوں میں دو تہائی اکثریت برقرار رکھنے کی جانب بڑھ رہی ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے تاس کے اندازوں کے مطابق ایسی اکثریت جماعت کو آئین میں ترامیم منظور کرانے کی گنجائش بھی فراہم کرتی ہے۔

انتخابات میں جنگ مخالف مؤقف رکھنے والی جماعت یابلونکو کو وفاقی انتخابی فہرست میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ روسی سپریم کورٹ نے ووٹنگ سے چند ہفتے قبل اس جماعت کی فہرست خارج کردی تھی، تاہم اس کے بعض امیدوار انفرادی حلقوں میں انتخاب لڑنے کے لیے بیلٹ پر موجود رہے۔ انتخابات کے دوران روس کے زیر قبضہ یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ ہوئی۔

ادھر انتخابی عمل کے آخری روز ماسکو اور اس کے گردونواح میں یوکرین کی جانب سے بڑے پیمانے پر ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین کے مطابق دارالحکومت کی جانب آنے والے سینکڑوں ڈرونز کو نشانہ بنایا گیا۔ حکام نے حملوں میں دو افراد کی ہلاکت اور ایک آئل ریفائنری میں آگ لگنے کی اطلاع دی، جبکہ ایک رہائشی عمارت سے بھی لوگوں کو نکالا گیا۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے حملوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ روس کے اندر طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں کے نمایاں اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب روسی وزارت دفاع نے یوکرین پر شہری اہداف کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کیف میں فوجی اہداف پر حملوں میں شدت لانے کی دھمکی دی ہے۔

انتخابات کے دوران سائبر حملوں کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں۔ روسی مرکزی الیکشن کمیشن کی سربراہ ایلا پامفیلووا نے کہا کہ انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے پر ایک ہزار سے زائد ڈی ڈوس حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان کے مطابق حملوں میں مصنوعی ذہانت کے آلات استعمال کرنے والے منظم گروہوں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے، تاہم ذمہ داروں کی شناخت نہیں بتائی گئی۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ووٹنگ سے قبل عوام پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات میں حصہ لیں۔ ان کے مطابق ووٹ ڈالنا روسی فوجیوں کی حمایت اور ملک کو کمزور کرنے کی کوشش کرنے والوں کو جواب دینے کا ذریعہ ہے۔ دوسری جانب جلاوطن روسی اپوزیشن رہنماؤں نے جنگ مخالف شہریوں سے ووٹ کے ذریعے احتجاج کرنے کی اپیل کی، جبکہ برلن اور لندن میں روسی سفارت خانوں کے باہر بھی بعض مخالفین نے مظاہرے کیے۔