یمن میں حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کے بعد سعودی عرب اور حوثی فورسز کے درمیان لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب پر حالیہ فضائی حملوں میں شہریوں اور جیل میں قید افراد کی ہلاکت کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوگئے ہیں۔
حوثی حکام کے مطابق شمال مغربی یمن میں ایک جیل پر سعودی فضائی حملے کے نتیجے میں 9 قیدی ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے بندرگاہی شہر المخا میں 6 شہریوں، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ الجوف صوبے میں مزید 2 شہریوں کی ہلاکت کا بھی دعویٰ کیا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
اقوام متحدہ نے منگل کو خبردار کیا کہ حالیہ لڑائی کے نتیجے میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد موجودہ 130 ہزار سے بڑھ کر آنے والے مہینوں میں 230 ہزار سے تجاوز کرسکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی بحیرۂ احمر کے ساحل پر پیش قدمی نے اہم بحری راستے باب المندب میں عالمی تجارت اور جہاز رانی کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز مشرق وسطیٰ میں توانائی کی عالمی ترسیل کے اہم بحری راستے ہیں۔
سعودی عرب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کررہا ہے اور حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کے لیے ان کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں فضائی کارروائیاں کر رہا ہے۔ حوثیوں نے بھی سعودی سرزمین پر حملوں میں اضافہ کیا ہے، جن میں سعودی دارالحکومت ریاض کو نشانہ بنانے کی کارروائی بھی شامل ہے۔
حوثی اور یمنی حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران لڑائی میں 154 افراد ہلاک ہوئے۔ حوثی فوجی ذرائع نے 118 ہلاکتوں کا دعویٰ کیا، جبکہ یمنی حکومتی ذرائع نے اپنے حامی دستوں میں 36 افراد کی ہلاکت بتائی ہے۔ ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہوسکی۔
سعودی سول ڈیفنس نے یمن کی سرحد سے متصل ملک کے جنوبی علاقوں میں ممکنہ خطرے کے پیش نظر شہریوں کو گھروں میں رہنے اور کھلے مقامات سے گریز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، تاہم یہ الرٹ کچھ دیر بعد ختم کردیا گیا۔
عالمی ردعمل
جی7 ممالک نے حوثیوں سے تمام فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکنے اور شہری بحری جہازوں کے خلاف دھمکیاں اور حملے ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جی7 نے ایران سے بھی حوثیوں کو ہتھیاروں اور دیگر معاونت کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔
برطانیہ نے سعودی عرب کو بعض فوجی معاونت فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جبکہ فرانس نے سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ میں مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم فرانسیسی حکام کے مطابق اس تعاون کا مقصد حوثیوں کے خلاف جنگ میں براہِ راست شرکت نہیں ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ سعودی حکام کے مطابق عراق سے کیے گئے ڈرون حملوں کے بعد ملک کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن بھی بند کردی گئی ہے۔


