اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کے معاشی اصلاحاتی پروگرام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اصلاحات پر عمل درآمد سے معاشی استحکام حاصل کرنے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
عرب نیوز کے مطابق کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مالیاتی نظم و ضبط، بیرونی مالیاتی ذخائر اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بہتری معاشی استحکام کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلسل اصلاحات سے پاکستان کی معاشی نمو میں تیزی لانے اور عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئے قومی ٹیرف نظام کا نفاذ، ملکی محصولات میں اضافہ اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت پاکستان کی اصلاحاتی کوششوں کا حصہ ہیں، جبکہ ان اقدامات سے عالمی مالیاتی منڈیوں تک پاکستان کی دوبارہ رسائی میں بھی مدد ملی ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے چوتھے جائزے اور 1.4 ارب ڈالر کے کلائمیٹ ریزیلینس پروگرام کے تیسرے جائزے پر مذاکرات بھی شروع کر دیے ہیں۔ عرب نیوز کے مطابق دونوں جائزوں کی کامیاب تکمیل سے پاکستان کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی فنانسنگ دستیاب ہو سکتی ہے، جس میں اقتصادی پروگرام کے تحت تقریباً ایک ارب ڈالر اور موسمیاتی پروگرام کے تحت 20 کروڑ ڈالر شامل ہیں۔ تاہم رقم کی فراہمی کے لیے آئی ایم ایف کے عملے کے ساتھ معاہدے اور ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہوگی۔
آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی اقدامات اور قرض پروگرام کے تحت کیے گئے وعدوں پر پیش رفت کا جائزہ لے گا۔ اس سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف کی نیویارک میں آئی ایم ایف سربراہ کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں معاشی اصلاحات، آئندہ جائزوں اور پاکستان کے ساتھ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔


