واشنگٹن: ٹرمپ انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں طویل تعیناتی کے دوران امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن سے وابستہ فوجی دستے میں خودکشی کی 8 کوششیں ہوئیں۔
اے ایف پی کے مطابق یہ انکشاف امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ کے ایک خط میں ہوا، جو ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کے جہاز پر فوجیوں کے حالات سے متعلق سوالات کے جواب میں لکھا گیا۔ خط کے مطابق تعیناتی کے آغاز سے اب تک پورے اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی 8 کوششیں رپورٹ ہوئیں، تاہم تعیناتی کے دوران جہاز پر کوئی خودکشی نہیں ہوئی۔
خط میں بتایا گیا کہ اگست کے آغاز میں ایک سیلر جہاز سے سمندر میں گر گیا تھا، جسے سرچ اینڈ ریسکیو ہیلی کاپٹر نے فوری طور پر تلاش کرکے نکال لیا اور مزید طبی نگہداشت کے لیے جہاز سے منتقل کردیا گیا۔ مارچ میں ایک اور فوجی نے جہاز سے سمندر میں جانے کی کوشش کی، تاہم ساتھی اہلکاروں نے اسے روک لیا اور بعد ازاں اسے ہوم پورٹ واپس بھیج دیا گیا۔
یو ایس ایس ابراہم لنکن نومبر 2025 میں کیلیفورنیا سے روانہ ہوا تھا اور ابتدا میں جنوبی بحیرۂ چین میں تعینات تھا، تاہم بعد میں اسے مشرق وسطیٰ بھیج دیا گیا۔ جہاز نے ستمبر کے آغاز میں تھائی لینڈ میں قیام کیا، جس سے قبل وہ 286 دن تک سمندر میں تعینات رہا۔
رپورٹ کے مطابق اگست میں فوجی خاندانوں اور قانون سازوں نے جہاز پر فوجیوں کی ذہنی صحت، خوراک کی کمی اور صفائی کی صورتحال سے متعلق خدشات اٹھائے تھے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس وقت ان دعوؤں کو مسترد کیا تھا، جبکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی جہاز کی صورتحال سے متعلق رپورٹس کو حقیقت کے برعکس قرار دیا تھا۔


