واشنگٹن: امریکی وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی این این، ایم ایس ناؤ اور پولیٹیکو کے صحافیوں پر وائٹ ہاؤس میں داخلے کی پابندی ختم کرتے ہوئے ان کے صحافتی اجازت نامے بحال کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
فرانس 24 کے مطابق امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹم کیلی نے جمعرات کو اپنے حکم میں کہا کہ تینوں میڈیا اداروں پر پابندی بظاہر آئین سے متصادم ہو سکتی ہے۔ یہ فیصلہ ان میڈیا اداروں کی جانب سے دائر کردہ مقدمے پر سامنے آیا، جس میں صدر ٹرمپ کی جانب سے 18 ستمبر کو عائد پابندی کو چیلنج کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ان اداروں کی رپورٹنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ وہ افسانوی اور جھوٹی خبریں نشر کرتے ہیں، جبکہ امریکی محکمہ انصاف کے وکلا نے پابندی کا دفاع قومی سلامتی کی بنیاد پر کیا تھا۔
پابندی کے خلاف امریکی میڈیا ادارے متحد
رپورٹ کے مطابق تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کو ہفتے کے روز وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے سے روک دیا گیا تھا اور ان کے اجازت نامے بھی ضبط کر لیے گئے تھے۔ اس اقدام کے بعد امریکی میڈیا حلقوں میں تشویش سامنے آئی۔
پابندی کے خلاف اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے امریکا کے پانچ بڑے نشریاتی اداروں اے بی سی، سی بی ایس، سی این این، فوکس اور این بی سی نے وائٹ ہاؤس کی مشترکہ پول کوریج روک دی تھی۔ ان اداروں کا کہنا تھا کہ عوام کو حکومت کے بارے میں درست اور آزادانہ معلومات حاصل کرنے کا اہم حق حاصل ہے اور کسی میڈیا ادارے کی رپورٹنگ سے اختلاف کی بنیاد پر اس کی رسائی محدود نہیں کی جانی چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن اور تقریباً 50 دیگر میڈیا اداروں نے بھی عدالت میں پابندی ختم کرنے کے حق میں درخواست جمع کرائی تھی۔
وائٹ ہاؤس کا اپنا اسٹریمنگ چینل بھی متعارف
فرانس 24 کے مطابق وائٹ ہاؤس نے پیر کی شام ’’ٹرمپ ٹی وی‘‘ کے نام سے اپنا اسٹریمنگ چینل بھی متعارف کرایا، جس کے بارے میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس پر اہم بیانات، ویڈیوز اور نمایاں سرگرمیاں چوبیس گھنٹے نشر کی جائیں گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے مرکزی دھارے کے امریکی میڈیا اداروں کی تنقید کرتے رہے ہیں اور ان کی رپورٹنگ پر بارہا اعتراضات اٹھاتے رہے ہیں۔


