بھارت میں جنسی تشدد کے حالیہ واقعات نے ایک بار پھر خواتین کی سلامتی، قانون کے نفاذ اور نظامِ انصاف کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ 2012 کے ہولناک اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد بھارت نے جنسی جرائم سے متعلق قوانین میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کیں، سزائیں سخت کیں اور اجتماعی زیادتی کے لیے کم از کم 20 سال قید کی سزا مقرر کی، لیکن دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جرائم میں نمایاں کمی نظر نہیں آتی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں بھارت میں روزانہ اوسطاً 80 ریپ کیس رپورٹ ہوئے، جبکہ 2012 میں یہ تعداد تقریباً 68 روزانہ تھی۔ ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے واقعات کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ سماجی بدنامی، خوف اور متاثرہ خواتین پر دباؤ کئی واقعات کو پولیس تک پہنچنے سے روک سکتا ہے۔
حالیہ دنوں میں دارالحکومت نئی دہلی میں کم عمر لڑکیوں سے زیادتی کے متعدد مبینہ واقعات نے عوامی غصے کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ ایک واقعے میں تین افراد پر پولیس اہلکار بن کر 17 سالہ لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام ہے۔ ان واقعات کے بعد طلبہ نے احتجاج کیا اور خواتین کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
تنقیدی سوال یہ ہے کہ اگر قانون سخت ہونے کے باوجود جنسی جرائم کا مسئلہ برقرار ہے تو کیا محض سزاؤں میں اضافہ کافی ہے؟
خواتین کے حقوق کی کارکن یوگیتا بھایانا کے مطابق اصل مسئلہ سماجی رویوں میں تبدیلی کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آج بھی بعض حلقوں میں خواتین کے لباس، وقتِ آمدورفت یا مردوں سے میل جول کو ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔
قانونی ماہرین بھی مسئلے کی ایک بڑی وجہ کمزور نفاذِ قانون اور عدالتی تاخیر کو قرار دیتے ہیں۔ پولیس پر کام کا بوجھ، عدالتوں میں مقدمات کا انبار اور تفتیشی نظام کی کمزوریاں سخت قوانین کے ممکنہ اثرات کو محدود کر رہی ہیں۔
سال 2024 میں عدالتوں میں زیرِ سماعت دو لاکھ سے زیادہ ریپ کیسز میں سے 10 فیصد سے بھی کم مکمل ہو سکے۔ رپورٹ کے مطابق ایسے مقدمات کے فیصلوں میں کئی سال لگ سکتے ہیں، جس سے متاثرین کے لیے انصاف کا حصول مزید مشکل ہوجاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بنیادی سوال کو نمایاں کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف قانون کی سختی کا نہیں بلکہ قانون کے مؤثر نفاذ، تیز انصاف، پولیس کی استعداد، سماجی رویوں اور خواتین کے تحفظ کے عملی نظام کا بھی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنسی تشدد کی روک تھام جرم کے بعد سزا سے پہلے شروع ہونی چاہیے—گھروں، اسکولوں، معاشرے، آن لائن پلیٹ فارمز اور پولیس کے نظام میں آگاہی اور احتیاطی اقدامات کے ذریعے۔
بھارت کا تجربہ اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ سخت قانون اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اگر نفاذ کمزور اور انصاف سست ہو تو قانون کی سختی اکیلے خواتین کو محفوظ بنانے کی ضمانت نہیں بن سکتی۔


