ساؤ پاؤلو: برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے ملک میں آن لائن کھیلوں پر سٹے بازی کی ویب سائٹس پر پابندی عائد کردی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برازیل میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں چند ہی روز باقی ہیں اور لولا چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق برازیل کے وزیر خزانہ داریو دوریگان نے لولا کے ہمراہ ایک تقریب میں پابندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اب بیٹنگ سائٹس پر رقم جمع نہیں کرائی جاسکے گی۔
حکومتی اقدام کے تحت نئی بیٹنگ کمپنیوں کے اشتہاری معاہدے بھی فوری طور پر روک دیے گئے ہیں، جبکہ موجودہ اسپانسر شپ معاہدے 6 اکتوبر کے بعد ختم ہوجائیں گے۔ حکام کے مطابق اس تاریخ کے بعد ملک میں بیٹنگ کی کوئی قانونی ویب سائٹ، ایپلی کیشن یا قانونی اسپانسر شپ موجود نہیں ہوگی۔
برازیل میں 2023 میں کھیلوں پر سٹے بازی کے لیے نیا قانونی و ریگولیٹری فریم ورک متعارف کرایا گیا تھا، جس کے بعد بیٹنگ کی صنعت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ سڑکوں، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور معروف کھلاڑیوں کے ذریعے بیٹنگ کمپنیوں کی تشہیر میں بھی اضافہ ہوا۔
ملک کے فرسٹ ڈویژن کے 20 میں سے 13 فٹبال کلبوں کی شرٹس پر آن لائن بیٹنگ کمپنیاں مرکزی اسپانسر کے طور پر موجود ہیں۔
برازیلی حکومت کے مطابق ملک میں بیٹنگ کے 85 لائسنس جاری کیے جاچکے ہیں۔ ہر لائسنس کی قیمت 30 ملین ریئس، یعنی تقریباً 5.7 ملین ڈالر مقرر کی گئی تھی، تاہم پابندی کے باوجود یہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔
وزیر خزانہ کے مطابق قانونی بیٹنگ کمپنیوں کو برازیلی خاندانوں کی جانب سے 60 ارب ریئس، یعنی تقریباً 11 ارب ڈالر منتقل کیے گئے۔ حکومت نے جوئے کی لت کو صحتِ عامہ کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے پابندی کو ضروری اقدام قرار دیا ہے۔
صدر لولا نے بھی جوئے کی لت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے اس کے خلاف سخت اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک کے بڑے فٹبال کلب فلیمنگو نے پابندی کو برازیلی کھیلوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ کلب کے مطابق اس فیصلے کے اثرات صرف پروفیشنل فٹبال تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یوتھ اکیڈمیوں، خواتین کے فٹبال، اولمپک کھیلوں اور مختلف چیمپئن شپ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فٹبال کلبوں کا مؤقف ہے کہ بیٹنگ کمپنیوں کی اسپانسر شپ ان کی مالی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دوسری جانب دائیں بازو کے سینیٹر فلاویو بولسونارو نے پابندی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے انتخابات سے قبل لولا کی سیاسی حکمت عملی قرار دیا۔ بولسونارو نے الزام عائد کیا کہ صدر دباؤ میں ہیں اور یہ اقدام انتخابی مقاصد کے لیے کیا گیا ہے۔
بیٹنگ کمپنیوں کا مختلف مؤقف
لائسنس یافتہ بیٹنگ آپریٹرز کی نمائندہ نیشنل ایسوسی ایشن آف گیمز اینڈ لاٹریز (اے این جی ایل) سمیت صنعت سے وابستہ نو تنظیموں نے پابندی کی مخالفت کی ہے۔
ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی سے صارفین غیر قانونی بیٹنگ پلیٹ فارمز کی طرف جاسکتے ہیں، جبکہ حکومت کو ٹیکس آمدنی اور روزگار کے نقصان کا بھی سامنا ہوسکتا ہے۔
اے این جی ایل کے مطابق بیٹنگ کے شعبے نے 2025 میں وفاقی حکومت کو 9.95 ارب ریئس، یعنی تقریباً 1.73 ارب ڈالر ٹیکس ادا کیا۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ مسئلے کا حل مکمل پابندی کے بجائے نگرانی اور مؤثر ضابطہ کاری میں ہے۔
صدر لولا کی جانب سے جاری کردہ عبوری اقدام کو مستقل قانون بننے کے لیے برازیل کی کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ یوں ملک میں آن لائن اسپورٹس بیٹنگ کا مستقبل اب پارلیمانی فیصلے سے بھی جڑا ہوا ہے۔


