غزہ شہر کے مغربی علاقے میں ایک رہائشی فلیٹ پر اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم 5 فلسطینی شہید اور 5 زخمی ہوگئے۔
فلسطینی ہنگامی امدادی سروسز اور الشفا اسپتال کے طبی ذرائع کے مطابق زخمیوں میں بعض کی حالت تشویش ناک ہے، جبکہ امدادی کارکن ملبے تلے ممکنہ طور پر موجود مزید افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے صحافی ایتائے بلومنٹل نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ حملے میں حماس کے سینئر رکن علی العمری کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق علی العمری غزہ میں حماس کی قیادت کے ممکنہ خفیہ انتخاب کے لیے نمایاں امیدوار سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ وہ حملے میں ہلاک ہوئے، زخمی ہوئے یا محفوظ رہے۔ اسرائیلی فوج نے تاحال اس واقعے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی ختم نہیں ہوسکی۔ مذاکرات میں اب تک اس معاملے پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ حماس ہتھیار کب اور کس طریقہ کار کے تحت رکھے گی اور اسرائیلی فوج غزہ سے کب واپس جائے گی۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دوبارہ حملوں اور ہتھیار جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حماس ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اسرائیل پر جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کرتی ہے۔
ایک سال میں 1400 سے زائد شہادتیں
غزہ میں حماس کے زیر انتظام محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں جنگ بندی کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1400 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اسی عرصے کے دوران غزہ میں عسکریت پسندوں کے حملوں میں اس کے 4 فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
حالیہ فضائی حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب جنگ بندی کے باوجود فریقین کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں اور غزہ میں وقفے وقفے سے تشدد کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں۔


