تہران: ایران نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں، جبکہ تنازع ختم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات بھی بظاہر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے غیر ملکی سفیروں کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مخالفین نے دوبارہ فوجی تصادم کا راستہ اختیار کیا تو ایران پہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ اپنا دفاع کرے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ نہ فوجی کارروائی اور نہ ہی نئی پابندیاں مسئلے کا حل ہیں، بلکہ جنگ کے خاتمے کے لیے انصاف اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز بنی ہوئی ہے، جو خلیجی تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ ایران نے جنگ کے آغاز سے ہی اس آبی گزرگاہ پر کنٹرول کی کوشش کی ہے، جبکہ امریکا نے بھی ایرانی بندرگاہوں کے خلاف جوابی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔
برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر نے نامعلوم سمت سے آنے والے ایک پروجیکٹائل کی زد میں آنے کی اطلاع دی۔ واقعے میں جہاز کے انجن روم کو نقصان پہنچا تاہم عملہ محفوظ رہا اور ماحول کو نقصان پہنچنے کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
آبنائے ہرمز مذاکرات کا مرکزی مسئلہ
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایرانی اور امریکی حکام کے درمیان بالواسطہ مذاکرات ہوئے تھے۔ ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے 7 شرائط پیش کی ہیں۔
ایران کی جانب سے جنگ بندی، بیرونِ ملک منجمد اثاثوں کی بحالی، تیل کے شعبے پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی تجاویز مسترد کردی ہیں، تاہم مزید مذاکرات یا دوبارہ فوجی کارروائی کے امکانات کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ تہران کی توجہ بنیادی طور پر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ہے۔ ان کے مطابق آبی گزرگاہ کھولنے کے لیے ایرانی تجارتی بحری آمدورفت میں رکاوٹیں ختم اور پابندیاں اٹھانا ضروری ہے۔
امریکا کی خطے میں فوجی سرگرمیاں بڑھنے لگیں
امریکا اور اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا مقصد اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، تاہم ایران طویل عرصے سے جوہری ہتھیار بنانے کے ارادے کی تردید کرتا آیا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا ہوئی، جس کے بعد تنازع میں اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھلوانا مرکزی مسئلہ بن گیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن نے خطے میں اپنی دفاعی موجودگی بڑھاتے ہوئے سعودی عرب اور قطر میں اضافی پیٹریاٹ میزائل نظام تعینات کیے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری بیڑا یو ایس ایس تھیوڈور روز ویلٹ اپنے جنگی گروپ کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی جانب بڑھ رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر کے اعلیٰ حکام نے ایران کے ساتھ جاری جنگ اور یمن کی صورتحال پر بھی غور کیا ہے، جہاں ایران کی حمایت یافتہ حوثی فورسز حکومتی افواج کے خلاف سرگرم ہیں اور سعودی عرب کو بھی نشانہ بناتی رہی ہیں۔
ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ جنگ اور مزید پابندیوں کے بجائے مذاکرات ہی تنازع کے خاتمے کا راستہ ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا موجودہ کشیدگی کے حل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔


