ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے والی بڑی تعداد میں غیر معتبر سائبر سیکیورٹی رپورٹس کے باعث اپنے اوپن سورس بگ باؤنٹی پروگرام کو عارضی طور پر روک دیا ہے۔ کمپنی کے مطابق یکم اکتوبر سے پروگرام معطل ہے اور اس حوالے سے اگلی پیش رفت 2027 کی پہلی سہ ماہی میں بتائی جائے گی۔
گوگل کے اوپن سورس سافٹ ویئر ولنریبیلیٹی ریوارڈ پروگرام کے تحت سیکیورٹی ریسرچرز کمپنی کے اوپن سورس سافٹ ویئر میں موجود خامیاں تلاش کرکے رپورٹ کرتے تھے اور درست نشاندہی پر انہیں انعام دیا جاتا تھا۔
تاہم گوگل کے مطابق حالیہ عرصے میں خودکار طریقے سے جمع کرائی جانے والی رپورٹس میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان میں سے بھاری اکثریت درست نہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ غیر معتبر رپورٹس نے گوگل کے انجینئرز اور اوپن سورس مینٹینرز پر اضافی ب شکایات میں ایسی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھیں۔ بعض رپورٹس میں اے آئی کی جانب سے تیار کرد بڑی تعداد میں خودکار اور غیر معیاری رپورٹس ایک ساتھ موصول ہوں تو ماہرین کو ہر رپورٹ کی جانچ میں وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً حقیقی اور اہم سیکیورٹی خامیوں کی نشوجھ ڈال دیا۔
رپورٹس کے مطابق متعدد جمع کرائی گئی شکایات میں ایسی سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی گئی جو حقیقت میں موجود ہی نہیں تھیں۔ بعض رپورٹس میں اے آئی کی جانب سے تیار کردہ غلط یا فرضی معلومات، یعنی اے آئی ہیلوسینیشن بھی شامل تھیں۔
مسئلہ صرف غلط رپورٹس تک محدود نہیں۔ جب بڑی تعداد میں خودکار اور غیر معیاری رپورٹس ایک ساتھ موصول ہوں تو ماہرین کو ہر رپورٹ کی جانچ میں وقت صرف کرنا پڑتا ہے۔ نتیجتاً حقیقی اور اہم سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی اور ان پر کارروائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
گوگل نے کہا ہے کہ پروگرام میں حصہ لینے والے سیکیورٹی ریسرچرز اس دوران کمپنی کے دیگر بگ باؤنٹی پروگرامز میں اپنی رپورٹس جمع کراسکتے ہیں۔
یہ پیش رفت اس وسیع تر بحث کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ سائبر سیکیورٹی میں اے آئی ایک طرف کمزوریوں کی تلاش کو تیز کرسکتی ہے، تو دوسری جانب غیر ضروری اور غلط رپورٹس کی بھرمار پیدا کرکے سیکیورٹی ٹیموں کے لیے نیا مسئلہ بھی کھڑا کرسکتی ہے۔


