یمن میں کئی برس سے جاری خانہ جنگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے۔ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔ حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ملک کے تمام صوبوں میں ریاستی اختیار بحال کرنا ہے، جبکہ حوثیوں کے خلاف مختلف محاذوں پر لڑائی تیز ہوگئی ہے۔
یمنی صدارتی لیڈرشپ کونسل کے چیئرمین رشاد العلیمی نے حوثیوں کے خلاف فوجی مہم تیز کرنے کا اعلان کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ چند ہفتوں کے دوران بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں اور اہم شہر تعز کے اطراف میں شدید لڑائی اور حوثیوں کی پیش قدمی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
یمنی معاون وزیر دفاع میجر جنرل سمیر الصبری نے الجزیرہ کو بتایا کہ حکومتی فوجی آپریشن کے پہلے مرحلے میں باب المندب آبنائے اور ساحلی بندرگاہی شہر المخا پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ ان کے مطابق یمنی فوج حوثیوں کو شکست دینے کے لیے ’’درست سمت‘‘ میں آگے بڑھ رہی ہے۔
سمیر الصبری کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے حوثیوں کے خلاف مربوط جوابی حملے شروع کردیئے ہیں اور حکومت اپنے زیرِ اختیار علاقوں کو وسعت دینے کی کوششیں تیز کرے گی۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مستقبل قریب میں حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی کارروائیاں تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔
دوسری جانب یمنی حکومتی فورسز نے پیر کے روز دعویٰ کیا کہ انہوں نے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ذباب ضلع کا کنٹرول حوثیوں سے واپس لے لیا ہے۔ تاہم حوثیوں نے اس دعوے کی تردید کردی ہے، اس لیے علاقے کی تازہ زمینی صورتحال آزادانہ طور پر واضح نہیں ہوسکی۔
حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی
رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ حوثیوں نے ایک تیز رفتار کارروائی کے دوران بحیرۂ احمر کے تقریباً 150 کلومیٹر ساحلی علاقے اور باب المندب کے اطراف میں متعدد مقامات پر اپنا کنٹرول بڑھایا۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن سے ملانے والی اہم آبی گزرگاہ ہے، جس کی عالمی بحری تجارت میں انتہائی اہمیت ہے۔
حوثیوں اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے درمیان جنگ کئی برس سے جاری ہے۔ 2022 میں ہونے والی عارضی جنگ بندی کے بعد لڑائی میں نسبتاً کمی آئی تھی، تاہم جنگ بندی کے خاتمے کے بعد حالیہ ہفتوں میں مختلف محاذوں پر دوبارہ شدید جھڑپیں شروع ہوگئی ہیں۔
اس تازہ لڑائی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد کے بے گھر ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ ملک پہلے ہی شدید انسانی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔
تعز اور بحیرۂ احمر اہم محاذ
یمن کے وسطی علاقے میں واقع اہم شہر تعز کے اطراف بھی حالیہ عرصے میں لڑائی میں شدت دیکھی گئی ہے۔ تعز ایک اسٹریٹجک اہمیت کا حامل شہر ہے اور اس کے گردونواح پر کنٹرول کے لیے حکومتی فورسز اور حوثیوں کے درمیان طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔
بحیرۂ احمر کا ساحلی محاذ بھی اس نئی جنگی صورتحال میں انتہائی اہم بن گیا ہے، کیونکہ باب المندب اور اس کے اطراف میں کسی بھی فریق کی پیش قدمی سے نہ صرف یمن کی جنگ بلکہ خطے کی بحری نقل و حرکت اور عالمی تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
جنگ کے ساتھ بجلی اور انسانی بحران بھی سنگین
یمن میں جاری جنگ نے پہلے سے موجود بنیادی سہولیات کے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔ بجلی کی قلت شہریوں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کررہی ہے۔ بجلی بند ہونے پر گھروں میں پنکھے اور ایئرکنڈیشنر بند ہوجاتے ہیں، بچوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور شدید گرمی میں شہری ٹھنڈی ہوا کے لیے گھروں سے باہر نکلنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔
اسپتالوں کے لیے بجلی کی صورتحال مزید حساس ہے، کیونکہ علاج اور طبی سہولیات بجلی کی دستیابی پر انحصار کرتی ہیں۔ یمن میں بجلی کا بحران جنگ سے پہلے بھی موجود تھا اور جنگ شروع ہونے سے قبل ملک کی تقریباً 55 فیصد آبادی کو تمام ذرائع ملا کر بجلی تک رسائی حاصل تھی۔
یوں یمن میں ایک طرف حوثیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان نئے سرے سے فوجی محاذ گرم ہوگئے ہیں، جبکہ دوسری جانب عام شہری جنگ، بے گھری، بجلی کی قلت اور بنیادی سہولیات کے بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں باب المندب اور المخا کے محاذ اس نئی فوجی مہم کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔


