اسلام آباد: پاکستان کی پہلی قومی صنعتی پالیسی 2026-2031 منظوری کے لیے آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پانچ سالہ پالیسی کا بنیادی مقصد ملک میں صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری بڑھانا، ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ اور برآمدی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
پالیسی کے نفاذ کیلئے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی علیحدہ منظوری درکار نہیں ہوگی، جبکہ حکومت صنعتی پالیسی کی بیشتر تجاویز کو رواں مالی سال کے بجٹ میں پہلے ہی شامل کر چکی ہے۔
مجوزہ پالیسی میں بیمار اور بند صنعتی یونٹس کی بحالی کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اس مقصد کیلئے مشکلات کا شکار صنعتوں کے قرضوں میں کمی، قرض کی ادائیگی کی مدت بڑھانے، نئے قرضوں کی فراہمی اور قرضوں کی ازسرنو تشکیل جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
بیمار صنعتوں کی بحالی کیلئے نیشنل انڈسٹریل ریوائیول کمیشن قائم کرنے کی تجویز بھی پالیسی کا حصہ ہے۔ مجوزہ کمیشن صنعتی یونٹس کی بحالی کے منصوبوں پر کام کرنے کے ساتھ ان کی راہ میں حائل مختلف انتظامی اور مالی مشکلات کے حل کیلئے کردار ادا کرے گا۔
نئی صنعتی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کیلئے آسان قرضوں اور دیگر مراعات کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ مجوزہ پالیسی کے تحت نئی صنعتوں کیلئے کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد سے کم کرکے 26 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پالیسی میں دیوالیہ پن سے متعلق قوانین میں ترامیم کی سفارش بھی شامل ہے، جبکہ نئے صنعتی اداروں کو غیر ضروری سرکاری اور ریگولیٹری مداخلت سے استثنیٰ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنے کیلئے معاہدوں پر مؤثر عملدرآمد اور سرمایہ کاری کے تحفظ کی یقین دہانی کرانے کی تجاویز دی گئی ہیں۔ خصوصی اقتصادی زونز میں کاروباری مسائل کے فوری حل کیلئے ون ونڈو نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی پالیسی میں شامل ہے۔
صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت کم کرنے کیلئے خام مال پر عائد ٹیرف میں کمی کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کا مقصد ایسی صنعتی پالیسی وضع کرنا ہے جس کے ذریعے ملکی صنعت کو مسابقتی بنایا جا سکے، نئی سرمایہ کاری راغب ہو، مقامی پیداوار میں اضافہ ہو اور برآمدات کیلئے زیادہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات تیار کی جا سکیں۔


