اسلام آباد: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام مجبوری کے تحت کیا گیا ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے نافذ نہیں رکھا جاسکتا، حالات میں بہتری آنے پر وہ وزیراعظم سے ایمرجنسی ختم کرنے کی درخواست کریں گے۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی آئین کے تحت نافذ کی گئی اور صدر نے بھی آئینی تقاضوں کے مطابق اس پر دستخط کیے۔ ان کے مطابق ایمرجنسی کے نفاذ سے قبل حکومت نے اپوزیشن کو مذاکرات کے ذریعے اعتماد میں لینے کی کوشش کی، تاہم صوبائی قیادت کے رویے کے باعث صورتحال اس نہج تک پہنچی کہ وفاق کو یہ انتہائی قدم اٹھانا پڑا۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جب پہلی مرتبہ ایمرجنسی سے متعلق معاملہ صدر کے پاس پہنچا تو فوری اقدام کے بجائے اپوزیشن سے مذاکرات کو ترجیح دی گئی تاکہ مسئلے کا سیاسی حل تلاش کیا جاسکے۔ ان کے مطابق حکومت نے بات چیت کو بھرپور موقع دیا اور انہیں امید تھی کہ مذاکرات کسی نتیجے تک پہنچ جائیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ پیپلز پارٹی کے دو نمائندے بھی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والی بات چیت میں شامل تھے۔ رات گئے انہیں بتایا گیا کہ مذاکرات کامیابی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اپوزیشن اس بات پر آمادہ ہوگئی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف وفاق کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔ بلاول کے مطابق اس پیش رفت پر انہیں محسوس ہوا کہ ایک بڑی سیاسی کامیابی حاصل ہونے والی ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تاہم کہا کہ بعد میں سامنے آنے والی صورتحال نے انہیں مایوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے بعض اقدامات نے ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے بحران کو مزید سنگین کیا۔
بلاول بھٹو نے جلسے میں عوام سے لیے گئے مبینہ حلف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی صوبائی قیادت دہشت گردی کے خلاف وفاق کا ساتھ نہ دینے کا اعلان کرے تو یہ انتہائی تشویش ناک سیاسی طرز عمل ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایسے اقدامات کو سیاسی خودکشی قرار نہ دیا جائے تو پھر اسے کیا کہا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حمایت کرتی ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایمرجنسی مستقل بنیادوں پر نافذ رہے گی۔ بلاول کے مطابق اگر حالات بہتر ہوئے تو وہ وزیراعظم سے خود درخواست کریں گے کہ اس اقدام کو واپس لیا جائے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق رائے سے تشکیل دیا گیا تھا، اس لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کسی ایک جماعت یا ادارے کی لڑائی نہیں سمجھنا چاہیے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی ایک شخص یا ادارہ تنہا دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کرسکتا، اس کے لیے وفاق، صوبوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنا ہوگا۔ ان کے بقول پاکستان ماضی میں بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت چکا ہے اور موجودہ حالات میں بھی اتحاد اور ذمہ دارانہ سیاسی کردار کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔
انہوں نے حکومت پر بھی زور دیا کہ اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہ کیا جائے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ بنیادی قومی معاملات پر سیاسی قوتوں کو کم از کم اتنا اتفاق ضرور پیدا کرنا ہوگا کہ ملک کو درپیش بڑے چیلنجز کا مشترکہ طور پر مقابلہ کیا جاسکے۔
اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے خطے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بھارت پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے پاکستان کی حالیہ دفاعی کامیابیاں ہضم کرنا مشکل ہے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے آپریشن سندور کے جاری رہنے کے بیانات خطے میں کشیدگی برقرار رکھنے کا باعث بن رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بھارت علیحدگی پسند عناصر کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کو ہوا دے رہا ہے، ایسے حالات میں ملک کے اندر سیاسی اختلافات سے بالاتر ہوکر قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت بھی یہ نہیں چاہے گی کہ ملک کے تمام محاذ بیک وقت کھل جائیں، اسی لیے سیاسی قوتوں کو مذاکرات اور اتفاق رائے کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ایک غیر معمولی اور مجبوری میں اٹھایا گیا قدم ہے، جسے حالات معمول پر آنے کی صورت میں ختم کیا جاسکتا ہے۔


