ویٹیکن سٹی: کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو چہاردہم میں پھیپھڑے کے کینسر کی تشخیص ہوگئی ہے، جس کے بعد ڈاکٹروں نے ان کے دائیں پھیپھڑے کا نچلا حصہ کامیاب سرجری کے ذریعے نکال دیا۔ ویٹیکن کے مطابق 71 سالہ پوپ کی حالت آپریشن کے بعد تسلی بخش ہے اور ان کی صحت یابی توقع کے مطابق جاری ہے۔
پوپ لیو چہاردہم کو 13 اکتوبر کو روم کے جیمیلی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا، جہاں ان کے پھیپھڑے میں موجود ایک مشکوک رسولی کو نکالنے کے لیے آپریشن کیا گیا۔ طبی معائنے کے دوران سامنے آنے والی اس رسولی کے بارے میں ابتدائی ٹیسٹوں سے ہی کینسر کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم سرجری کے دوران کیے گئے ٹشو کے معائنے سے لنگ ایڈینوکارسینوما کی تصدیق ہوگئی، جو پھیپھڑے کے کینسر کی ایک عام قسم ہے۔
ویٹیکن کے مطابق سرجری ویڈیو کی مدد سے کم مداخلت والی تکنیک کے ذریعے کی گئی اور اس کا دورانیہ تقریباً 90 منٹ رہا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپریشن کامیاب رہا اور اس دوران کسی پیچیدگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پوپ لیو کو آپریشن کے بعد ہوش معمول کے مطابق آیا اور انہیں اسپتال کے کمرے میں منتقل کردیا گیا۔
تازہ طبی اپ ڈیٹ کے مطابق پوپ لیو نے اسپتال میں رات پُرسکون انداز میں گزاری۔ وہ اپنے کمرے میں چل پھر رہے ہیں، معمول کی غذا لینا شروع کرچکے ہیں اور سانس سے متعلق فزیوتھراپی بھی کروا رہے ہیں۔ خون کے ٹیسٹ اور سینے کے ایکسرے کے نتائج بھی آپریشن کے بعد متوقع حد میں قرار دیے گئے ہیں۔
ڈاکٹروں کی جانب سے نکالے گئے ٹشو کے مزید طبی تجزیے کیے جائیں گے، جن سے یہ معلوم کرنے میں مدد ملے گی کہ کینسر صرف پھیپھڑے تک محدود ہے یا جسم کے کسی دوسرے حصے تک پھیل چکا ہے۔ فی الحال ویٹیکن نے پوپ لیو کے کینسر کے حتمی مرحلے یا آئندہ علاج، مثلاً مزید ادویات یا دیگر علاج کی ضرورت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کیں
پوپ لیو کی صحت کے باعث ان کی تمام عوامی مصروفیات 20 اکتوبر تک منسوخ کردی گئی ہیں، جبکہ انہیں صحت یابی کے لیے تقریباً ایک ہفتہ اسپتال میں رہنے کی توقع ہے۔ ان کا نومبر میں جنوبی امریکا کا مجوزہ دورہ بھی اب ان کی صحت اور آئندہ طبی فیصلوں سے مشروط ہوگیا ہے۔
پوپ لیو چہاردہم، جن کا اصل نام رابرٹ پریووسٹ ہے، مئی 2025 میں رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ منتخب ہوئے تھے۔ کینسر کی تشخیص اور سرجری کے بعد ان کی صحت کے حوالے سے دنیا بھر میں کیتھولک برادری اور مختلف عالمی رہنماؤں کی جانب سے نیک خواہشات اور دعاؤں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔


