ایران کا فضائی دفاع زیادہ مضبوط کرنے کا دعویٰ

تہران: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ دارالحکومت تہران کی فضائی دفاعی صلاحیت فروری میں جنگ شروع ہونے کے وقت کے مقابلے میں اب زیادہ مضبوط ہوگئی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمی نیا نے کہا ہے کہ جنگی یونٹس میں نئے آلات شامل کیے گئے ہیں، فضائی دفاع کے لیے نئے آپریشنل منصوبے تیار کرکے نافذ کیے گئے ہیں اور حالیہ ہفتوں کے دوران کئی امریکی ڈرون مار گرائے گئے ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق محمد اکرمی نیا نے بتایا کہ ایرانی فضائی دفاعی فورس نے حالیہ مہینوں میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کی فضائیہ کے ساتھ مشترکہ مشقیں بھی کیں، جن کا مقصد دونوں فورسز کے درمیان رابطے اور کارروائیوں میں ہم آہنگی کو بہتر بنانا تھا۔

تاہم، تہران کے فضائی دفاع کی صلاحیت میں اضافے اور امریکی ڈرون مار گرانے کے ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان کے مطابق، فضائی دفاعی یونٹس میں نئے آلات شامل کرنے کے ساتھ ساتھ آپریشنل حکمت عملی میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد فضائی خطرات سے نمٹنے اور دفاعی فورسز کے درمیان بہتر رابطہ قائم کرنا ہے۔

اس سے قبل بھی ایرانی حکام دفاعی نظام کی بحالی اور جدید کاری کے اقدامات کا ذکر کرچکے ہیں۔ جولائی 2026 میں اکرمینیا نے تسنیم کو بتایا تھا کہ جنگ بندی کے دوران فوجی صلاحیتوں کی بحالی پر کام کیا گیا اور فضائی دفاع کے شعبے میں نئے آلات فوجی ڈھانچے کا حصہ بنائے گئے۔ اگست میں بھی انہوں نے فوجی تیاریوں اور موجودہ نظاموں کو جدید بنانے کی کوششوں کا ذکر کیا تھا۔

محمد اکرمی نیا نے کہا کہ ایرانی فضائی دفاع نے حالیہ ہفتوں میں متعدد امریکی ڈرونز کو نشانہ بنایا ہے۔

فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، ابتدائی کارروائیوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام اور میزائل صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بعد تنازعے میں مزید شدت آئی اور خطے میں فوجی کشیدگی بڑھ گئی۔ جون میں جنگ بندی سے متعلق پیش رفت کے بعد بھی دونوں فریقوں کے درمیان تناؤ برقرار رہا۔