فرانس میں مہنگائی پر شہر شہر ہنگامے:صدر سےاستعفےکا مطالبہ

پیرس: فرانس میں بڑھتی مہنگائی، زندگی کے بڑھتے اخراجات، تعلیمی نظام اور عوامی خدمات کی بگڑتی صورتحال کے خلاف ملک گیر احتجاج اس وقت پرتشدد صورت اختیار کرگیا جب پیرس سمیت مختلف شہروں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے صدر ایمانوئل میکرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا، جبکہ کئی مقامات پر سرکاری عمارتوں اور دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

فرانس کی مزدور یونین سی جی ٹی کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 5 لاکھ افراد نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی، تاہم حکام کی جانب سے فوری طور پر شرکا کی تعداد کا تخمینہ جاری نہیں کیا گیا۔

پیرس میں پولیس نے نقاب پوش مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ بعض مظاہرین کی جانب سے پولیس پر اشیا پھینکنے اور آتش بازی کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ دارالحکومت میں متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور 130 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔

تشدد کے دوران جنوبی شہر سینٹ ایٹین میں ایک مظاہرہ کرنے والے شخص کا ہاتھ پولیس کی جانب سے ہجوم کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے ایک گرینیڈ سے شدید متاثر ہوا اور ہاتھ ضائع ہوگیا۔ اس واقعے نے پولیس کے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے طریقہ کار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ادھر لیون میں مظاہرین نے شہر کے مرکزی علاقے میں ایک سیاحتی دفتر کو آگ لگا دی، جبکہ مارسیلے اور لِل میں سٹی ہالز میں زبردستی داخل ہوکر توڑ پھوڑ کی گئی۔ مختلف شہروں میں درجنوں دکانیں لوٹ لی گئیں، جن میں مارسیلے میں لگژری برانڈ ہرمیس کی بوتیک اور لِل میں ایپل اسٹور بھی شامل ہے۔

پیرس میں 300 سے زائد مظاہرین نے مشہور شانزے لیزے کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، جہاں پولیس نے آنسو گیس کے ذریعے انہیں روک دیا۔ تاہم ملک کے بیشتر مقامات پر ہونے والے بڑے مارچ نسبتاً پُرامن رہے، جن میں خاندانوں، طلبہ اور مختلف عمر کے افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے احتجاج کی بنیادی وجہ روزمرہ زندگی کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے، تاہم مہنگائی کے ساتھ ساتھ سیاسی بدعنوانی، معاشی عدم مساوات، موسمیاتی تبدیلی، تعلیم اور مستقبل کے غیر یقینی حالات بھی احتجاج کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ وہ 2027 کے صدارتی انتخابات، سیاست دانوں کے جھوٹ اور ملک میں بڑھتی معاشی عدم مساوات کے خلاف احتجاج کر رہا ہے۔ ایک اور نوجوان مظاہرہ کرنے والی کا کہنا تھا کہ وہ ایسے مستقبل کے لیے سڑکوں پر نکلی ہے جو پائیدار ہو، کیونکہ ماحولیاتی مسائل بڑھ رہے ہیں جبکہ حکومت انہیں سنجیدگی سے نہیں لے رہی۔

فرانس کی ییلو ویسٹ تحریک نے بھی ان مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ آٹھ سال قبل یہی تحریک میکرون حکومت کی جانب سے ایندھن پر ٹیکس بڑھانے کے خلاف ملک گیر احتجاج کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کرچکی ہے۔ موجودہ احتجاج کو ’یلو اینڈ یوتھ‘ مظاہروں کا نام دیا گیا ہے۔

پرتشدد واقعات کے بعد فرانسیسی سیاست میں بھی گرما گرمی بڑھ گئی ہے۔ دائیں بازو کی صدارتی امیدوار میرین لے پین نے مظاہروں میں توڑ پھوڑ اور پولیس پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کو ’فسادی‘ قرار دیا، جبکہ بائیں بازو کے رہنما ژاں لوک میلانشوں نے احتجاج کے زیادہ تر حصے کو پُرامن قرار دیتے ہوئے میڈیا پر تشدد کی تصاویر کو نمایاں کرنے کا الزام عائد کیا۔

مظاہروں میں بعض شرکا نے 1789 کے فرانسیسی انقلاب کی یاد تازہ کرتے ہوئے ’انقلاب‘ کے نعرے بھی لگائے۔ مارسیلے میں بعض مظاہرین نے میئر کے دفاتر میں داخل ہوتے ہوئے ’ہم باستیل فتح کر رہے ہیں‘ کے نعرے لگائے، جبکہ لا روشیل میں ایک احتجاجی بینر پر ’انقلاب یا موت‘ درج تھا۔

فرانس میں یہ احتجاج ایسے وقت ہوا ہے جب ملک آئندہ برس ہونے والے صدارتی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے۔ بڑھتی مہنگائی، عوامی خدمات کے مسائل، نوجوانوں کی بے چینی اور حکومت پر عدم اعتماد نے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ کردیا ہے۔ پرامن احتجاج اور پرتشدد واقعات کے اس امتزاج نے فرانس میں میکرون حکومت کے لیے ایک نیا سیاسی امتحان کھڑا کردیا ہے۔