غزہ میں ہر طرف بھوک کا راج: عالمی امداد میں کمی نے بحران بڑھادیا

غزہ: غزہ میں اسرائیلی بربریت، بے روزگاری، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور انسانی امداد میں کمی نے خاندانوں کی مشکلات مزید بڑھادی ہیں۔ والدین کے لیے اپنے بچوں کو مناسب اور غذائیت سے بھرپور کھانا فراہم کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے، جبکہ کئی خاندانوں کے بچوں کی خوراک اب چائے، روٹی اور محدود دستیاب اشیا تک سمٹ گئی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے غزہ میں تجارتی سامان کی آمد پر پابندیوں اور خوراک کی سپلائی میں تعطل نے پہلے سے پریشان خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ورلڈ فوڈ پروگرام) نے مالی وسائل کی کمی کے باعث غذائی امداد بھی کم کردی ہے۔

اس صورت حال نے بچوں کی صحت، نشوونما اور غذائی ضروریات پوری ہونے کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کردیے ہیں۔

ہزاروں بچے غذائی قلت کا شکار

غزہ میں بچوں کی غذائی صورت حال سے متعلق اعداد و شمار بھی تشویش ناک ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کے مطابق، ستمبر میں 2,800 سے زائد بچوں کو غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل کیا گیا، جن میں 360 سے زیادہ بچے شدید غذائی قلت کا شکار تھے۔

رپورٹ کے مطابق، چھ ماہ سے پانچ سال تک کی عمر کے تقریباً 3000 بچے ہر ماہ غذائی قلت کے علاج کے لیے داخل ہورہے تھے۔

یونیسیف کے تعاون سے اگست میں شائع ہونے والے ایک غذائی سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تحقیق کاروں کی رسائی میں آنے والے علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر بچوں میں سے 12.2 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے متوقع قد سے کم نشوونما کا شکار تھے۔ یہ کیفیت طویل عرصے تک ناکافی غذا اور صحت کے مسائل سے وابستہ ہوسکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق، بچوں کو صرف پیٹ بھرنے کے لیے خوراک ملنا کافی نہیں، بلکہ ان کی نشوونما کے لیے پروٹین، وٹامنز اور دیگر ضروری غذائی اجزا بھی درکار ہوتے ہیں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کی امداد میں کمی

غزہ میں خوراک کی قلت ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب انسانی امداد بھی مالی وسائل کی کمی سے متاثر ہوئی ہے۔

عالمی پروگرام برائے خوراک نے 19 اکتوبر کو اعلان کیا کہ مالی مشکلات کے باعث غزہ میں اس کی غذائی امداد میں کمی کرنا پڑی ہے۔ جس کے باعث ستمبر میں امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد تقریباً 16 لاکھ تھی، جو اکتوبر میں کم ہوکر 11 لاکھ رہ گئی۔

غذائی امداد میں کمی کے بعد غزہ کے ہر خاندان کو دو کے بجائے ایک غذائی پیکٹ دیا جارہا ہے، جبکہ گندم کے آٹے کی مقدار بھی کم کردی گئی ہے۔روزانہ فراہم کیے جانے والے تیار کھانوں کی تعداد ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کردی گئی ہے۔

عالمی پروگرام برائے خوراک کے مطابق غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد یعنی آبادی کا لگ بھگ دو تہائی حصہ، شدید غذائی عدم تحفظ کی بحرانی سطح یا اس سے بھی بدتر صورت حال کا سامنا کررہا تھا۔

غزہ سٹی میں اگست 2025 میں قحط کا اعلان کیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) نے اسی سال دسمبر میں بتایا تھا کہ جنگ بندی شروع ہونے کے بعد قحط کی صورت حال میں کمی آئی تھی۔

تاہم، امداد میں حالیہ کٹوتیوں اور تجارتی سامان کی سپلائی میں تعطل نے خدشات دوبارہ بڑھادیے ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل

اسرائیل نے 14 اکتوبر کو غزہ میں تجارتی سامان کی ترسیل روک دی تھی، جس سے خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی متاثر ہوئی۔یہ تعطل تاجروں سے فی ٹرک 10000 شیکل، یعنی تقریباً 3225 ڈالر، ادا کرنے کے مطالبے پر پیدا ہونے والے تنازع کے دوران سامنے آیا۔

اسرائیل نے 19 اکتوبر کو تجارتی سامان کی ترسیل بتدریج بحال کرنے کا اعلان کیا۔غزہ میں امداد اور تجارتی رسائی کے معاملات سے متعلق اسرائیلی ادارے کوگاٹ کے مطابق تاجروں نے بتایا تھا کہ حماس نے ادائیگی کا مطالبہ واپس لے لیا ہے۔

دوسری جانب حماس نے اس رقم کو جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے قائم فنڈ میں رضاکارانہ تعاون قرار دیا۔

تجارتی سامان کی آمد بحال ہونے کا اعلان اپنی جگہ، لیکن غزہ کے خاندانوں کے لیے خوراک کی قیمتوں میں کمی اور غذائیت سے بھرپور اشیا کی مسلسل دستیابی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔

غزہ سٹی کے ماہرِ اطفال اور غذائیت کے ماہر ڈاکٹر محمد بی الرعی نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی ترسیل پر طویل پابندیاں بچوں میں غذائی قلت کے مزید کیسز کا سبب بن سکتی ہیں۔

ان کے مطابق، اسپتالوں میں اب بھی درمیانی اور شدید درجے کی غذائی قلت کے شکار بچے لائے جارہے ہیں۔ اس مسئلے سے صرف پانچ سال سے کم عمر بچے ہی متاثر نہیں، بلکہ پانچ سے 17 سال کی عمر کے بچوں میں بھی ایسے کیسز سامنے آرہے ہیں۔

ڈاکٹر الرعی کے مطابق، بعض بچوں میں غذائی قلت کے ساتھ ٹانگوں پر سوجن بھی دیکھی گئی ہے، جو شدید پروٹین کی کمی سے وابستہ ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب خاندانوں کو دن بھر میں صرف ایک ایسا کھانا میسر ہو جس میں زیادہ تر کاربوہائیڈریٹس ہوں اور پروٹین ناکافی ہو، تو بچوں کی صحت مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ غذائی قلت سے متاثرہ بچوں کی صحت بحال ہونے میں ایک یا دو ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ بعض بچوں کو صحت یابی کے لیے تین سے چھ ماہ درکار ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق، اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو غذائی قلت کے مزید کیسز سامنے آنے کا خدشہ ہے۔

غزہ کے والدین کی اپیل

غزہ میں بچوں کی غذائی مشکلات صرف کھانے کی کمی تک محدود نہیں رہیں، بلکہ ان کی جسمانی کمزوری، تھکن اور نشوونما پر بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

بے گھر خاندانوں کے لیے روزگار کی کمی، مہنگی خوراک اور محدود امداد نے حالات کو مزید مشکل بنادیا ہے۔ والدین کے لیے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا بھی ایک مسلسل جدوجہد بن چکا ہے۔