دوحا: قطر اور فرانس نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت بحال کرنے اور غزہ میں جنگ بندی کے طے شدہ انتظامات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان دوحہ میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
قطر کے امیر اور فرانسیسی صدر کے درمیان ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں دونوں رہنماؤں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بغیر کسی پابندی اور فیس کے بحال ہونی چاہیے۔ یہ اہم سمندری راستہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
دونوں ممالک نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے اور علاقائی استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر بھی زور دیا۔
آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں
آبنائے ہرمز کی صورتِ حال خطے میں جاری کشیدگی کے اہم ترین مسائل میں شامل ہے۔ قطری ثالث ابراہیم بن سلطان الہاشمی نے منگل کو کہا تھا کہ علاقائی کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
قطر اور فرانس کے مشترکہ اعلامیے میں ایران کے خطے کے ممالک پر فوجی حملوں کی مذمت بھی کی گئی اور انہیں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کے معاملے پر سفارتی رابطے جاری ہیں، تاہم اس اہم بحری راستے کی مکمل بحالی اور کشیدگی میں کمی کے لیے مزید پیش رفت درکار ہوگی۔
غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ
قطر اور فرانس نے غزہ کی صورتِ حال پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے طے شدہ انتظامات کے مطابق غزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلا اور انسانی امداد کی فوری، محفوظ اور بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ انسانی امداد کی ترسیل کسی شرط یا پابندی کے بغیر ممکن بنائی جانی چاہیے، تاکہ جنگ سے متاثرہ فلسطینی آبادی کی بنیادی ضروریات پوری کی جاسکیں۔
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے پیر کو بتایا تھا کہ غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد، یعنی آبادی کے لگ بھگ دو تہائی حصے کو خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جن کی صورتِ حال بحرانی سطح یا اس سے بدتر ہے۔
یہ صورتِ حال امدادی سامان کی مسلسل فراہمی، محفوظ راستوں کی دستیابی اور جنگ بندی کے مؤثر نفاذ کی اہمیت کو نمایاں کرتی ہے۔
مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی مخالفت
قطر اور فرانس نے مغربی کنارے کے کسی بھی حصے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کا اعادہ کیا۔ دونوں ممالک نے اسرائیلی آبادکاری کی پالیسیوں اور آبادکاروں کے تشدد کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔
یہ مؤقف فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کے امکانات برقرار رکھنے کی سفارتی کوششوں کا حصہ ہے۔ دونوں ممالک نے زور دیا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے زمینی حقائق میں ایسی تبدیلیوں سے گریز ضروری ہے جو تنازع کو مزید پیچیدہ بنائیں۔
لبنان کی خودمختاری
مشترکہ اعلامیے میں لبنان کی صورتِ حال بھی زیرِ بحث آئی۔ قطر اور فرانس نے لبنان کی خودمختاری بحال کرنے، حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سے متعلق سہ فریقی فریم ورک معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی حمایت کی۔
دونوں ممالک نے اقوام متحدہ کے امن مشن کی مدت ختم ہونے کے بعد ممکنہ سکیورٹی خلا پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے لبنانی حکام اور مسلح افواج کی مدد جاری رکھنے پر زور دیا، تاکہ ملک میں امن و استحکام برقرار رکھا جاسکے۔
قطر اور فرانس نے شام میں استحکام اور اقتصادی بحالی کے منصوبوں کی مشترکہ حمایت پر آمادگی ظاہر کی، جس کے لیے شامی حکام کے ساتھ رابطہ کاری کی جائے گی۔
ملاقات میں دونوں ممالک نے دفاع، سکیورٹی اور معیشت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا خلیجی دورہ کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب تک بھی پھیلا ہوا تھا۔ اس دورے کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ تزویراتی اور اقتصادی شراکت داری مضبوط کرنا اور علاقائی استحکام کی کوششوں کی حمایت کرنا تھا۔


