تہران / نیویارک: ایران نے امریکا کی جانب سے اپنی بحری ناکہ بندی کے خلاف اقوام متحدہ سے باضابطہ احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے اقدامات کی مذمت کی جائے اور اسے ناکہ بندی فوری طور پر ختم کرنے کا پابند بنایا جائے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر غلام حسین درزی نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل کی صدر اگلیا بالتا کے نام خط میں امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق، خط میں ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا کی بحری ناکہ بندی اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے منافی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت قابلِ اعتراض فوجی اقدام سمجھا جانا چاہیے۔ تہران نے اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر واضح مؤقف اختیار کرے اور امریکا سے اپنی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کرے۔
ایران کا اقوام متحدہ سے مطالبہ
ایرانی سفیر غلام حسین درزی نے اپنے خط میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف مبینہ جارحانہ اقدامات اور بحری ناکہ بندی کو واضح طور پر مسترد اور اس کی سخت مذمت کریں۔
خط کے مطابق ایران چاہتا ہے کہ اقوام متحدہ امریکا پر زور دے کہ وہ ایران کے خلاف مبینہ فوجی کارروائیاں فوری طور پر بند کرے، بحری ناکہ بندی ختم کرے، ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے اور اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
ایران نے اپنے مؤقف کی حمایت میں طاقت کے استعمال پر پابندی اور ریاستوں کی خودمختاری سے متعلق بین الاقوامی قانونی اصولوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔
امریکا کو ذمہ داریوں کی یاد دہانی
ایرانی سفیر نے اقوام متحدہ سے یہ تسلیم کرنے کا مطالبہ بھی کیا کہ اگر امریکا نے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے اس کے قانونی نتائج کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مبینہ غیر قانونی اقدامات کو روکنے اور ہونے والے نقصان کا مکمل ازالہ کرنے کی ذمہ داریاں بین الاقوامی قانون کے تحت برقرار رہتی ہیں۔
تاہم، یہ ایران کی جانب سے پیش کردہ قانونی اور سیاسی پوزیشن ہے۔ امریکی اقدام کی قانونی حیثیت اور اس کے نتائج سے متعلق حتمی تعین متعلقہ حقائق، قابلِ اطلاق بین الاقوامی قانون اور مجاز اداروں کے جائزے پر منحصر ہوگا۔
اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا کردار
ایران کی جانب سے یہ خط ایسے معاملے پر سفارتی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے جس میں امریکا اور ایران کے درمیان اختلافات کے بین الاقوامی امن و سلامتی پر ممکنہ اثرات زیرِ بحث آسکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے منشور میں ریاستوں کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور طاقت کے استعمال سے متعلق بنیادی اصول شامل ہیں۔ تاہم، کسی مخصوص بحری کارروائی کی قانونی حیثیت کا جائزہ اس کے حالات، قانونی بنیاد اور متعلقہ بین الاقوامی قواعد کو سامنے رکھ کر لیا جاتا ہے۔
ایرانی خط میں اقوام متحدہ سے فوری ردعمل کی اپیل کی گئی ہے، لیکن فراہم کردہ معلومات میں سلامتی کونسل کی جانب سے اس مطالبے پر کسی فیصلے یا باضابطہ کارروائی کی تصدیق موجود نہیں۔


