واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان صورتِ حال کا فیصلہ ’کافی جلد‘ ہوجائے گا۔ ان کے بیان سے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے اور سفارتی حل کے امکانات کے حوالے سے نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق، ٹرمپ نے جنوبی کیرولائنا میں ایک انتخابی ریلی سے واپسی پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم حالات کا فیصلہ کسی نہ کسی صورت میں جلد سامنے آجائے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس معاملے میں پیش رفت امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہوگی، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوتا ہے۔
جنگ ختم کرسکتے ہیں
ٹرمپ نے ریلی کے دوران کہا کہ امریکا چاہے تو ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم کرسکتا ہے، لیکن واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ اس کا نتیجہ طویل عرصے تک برقرار رہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو عسکری اور مالی طور پر شکست دی ہے اور تہران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرسکے گا۔ یہ ٹرمپ کے اپنے دعوے ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اور جنگ کے حتمی نتائج کا تعین الگ معاملہ ہے۔
ایران کے ساتھ مذاکرات
ٹرمپ کے تازہ بیان کے باوجود ایران کے ساتھ سفارتی رابطوں کا معاملہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے 21 اکتوبر کو کہا تھا کہ اگر امریکا اعتماد سازی اور منصفانہ حل کے لیے سنجیدگی دکھائے تو تہران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان جون میں پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد طے پانے والی مفاہمت کو بھی اختلافات نے متاثر کیا ہے۔ ان میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت اور سکیورٹی سے متعلق معاملات شامل ہیں۔
جنگ دوبارہ شدت اختیار کرنے کا خدشہ
امریکی اور اسرائیلی افواج کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائیوں کے منصوبوں سے متعلق بھی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ تاہم، ان منصوبوں پر حتمی فیصلہ ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی اور امریکی انتظامیہ نے مبینہ فوجی منصوبوں پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔


