ایران پر مسلط جنگ کے اثرات: آئی ایم ایف نے مشرقِ وسطیٰ کی معیشت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی

دبئی: مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے معاشی اثرات شدت اختیار کرنے کے خدشات کے درمیان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں سال خطے کی معیشت کے حوالے سے تشویش ناک پیش گوئی کردی ہے۔ ادارے کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کی مجموعی معاشی پیداوار 2026 میں 1.3 فیصد سکڑ سکتی ہے، جبکہ 2027 میں حالات بہتر ہونے کی صورت میں 6.6 فیصد نمو متوقع ہے۔

آئی ایم ایف کی تازہ پیش گوئی کے مطابق، امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اثرات توانائی کی پیداوار، بحری تجارت، سیاحت، کاروباری سرگرمیوں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد تک پھیل چکے ہیں۔ تیل برآمد کرنے والی معیشتیں، خصوصاً وہ ممالک جن کی پیداوار اور برآمدات سمندری راستوں پر منحصر ہیں، زیادہ دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر توانائی کی پیداوار یا اہم تجارتی راستوں میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو معاشی صورتِ حال توقعات سے بھی زیادہ خراب ہوسکتی ہے۔

معاشی اعداد و شمار مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کی علاقائی معیشت میں 1.3 فیصد کمی ہوگی جب کہ 2027 میں متوقع نمو 6.6 رہنے کا امکان ہے۔

خلیجی ممالک کو زیادہ نقصان

خطے میں معاشی نقصان تمام ممالک کے لیے یکساں نہیں۔ تیل برآمد کرنے والے ممالک کو توانائی کی پیداوار میں خلل اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس کے برعکس، تیل درآمد کرنے والی بعض معیشتوں نے ترسیلاتِ زر، سیاحت اور حکومتی اقدامات کی مدد سے نسبتاً بہتر مزاحمت دکھائی ہے۔

آئی ایم ایف کی 13 اکتوبر کی عالمی معاشی رپورٹ میں مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشت کے لیے 2026 میں 0.3 فیصد سکڑاؤ کی پیش گوئی بھی سامنے آئی تھی۔ تاہم، 22 اکتوبر کی نئی علاقائی پیش گوئی میں مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ اور پاکستان کے وسیع تر خطے کے لیے 1.3 فیصد سکڑاؤ بتایا گیا ہے۔ دونوں اعداد مختلف جغرافیائی خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اس لیے انہیں ایک ہی تخمینے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔

آبنائے ہرمز اور عالمی تجارت پر دباؤ

آبنائے ہرمز میں خلل اور توانائی کی ترسیل میں مشکلات عالمی معیشت کے لیے اہم خطرات ہیں۔ اگر تیل اور دیگر اشیا کی ترسیل متاثر رہتی ہے تو توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، کاروباری لاگت میں بڑھوتری اور مہنگائی کے دباؤ میں شدت آسکتی ہے۔

آئی ایم ایف کے مطابق، اس کے بنیادی تخمینے میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ جنگ 2027 کے آغاز میں کم شدت اختیار کرے گی اور سال کے دوران تجارت بتدریج معمول پر آجائے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو معاشی بحالی متاثر ہوسکتی ہے۔

آئی ایم ایف کا مشورہ

ادارے نے خطے کی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ قیمتوں میں استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور مرکزی بینکوں کی خودمختاری کو ترجیح دیں۔ اس کے علاوہ پیداواری صلاحیت بڑھانے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تجارت کے متبادل راستے مضبوط بنانے کے لیے اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے۔