نیویارک: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی دولت میں ایک ہی دن میں بہت بڑی گراوٹ دیکھی گئی ہے۔ بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس کے مطابق ان کی مجموعی دولت میں ایک ہی دن میں 79.4 ارب ڈالر کی کمی آئی، جو 5 اگست کے بعد ایک دن میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔
اس گراوٹ کے بعد ایلون مسک کی مجموعی دولت 8.1 فیصد کم ہوکر 906 ارب ڈالر رہ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے ایک روز پہلے ہی ان کی دولت میں تقریباً 64 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا تھا۔ اس کے باوجود، رواں سال کے دوران اب تک ان کی دولت میں 451 ارب ڈالر کا اضافہ ہوچکا ہے، جو تقریباً 99.1 فیصد کی ترقی کے برابر ہے۔
شیئرز میں گراوٹ کا اثر
ایلون مسک کی دولت میں کمی کی بڑی وجہ ان کی کمپنیوں ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے شیئرز میں گراوٹ بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کو اسپیس ایکس کے شیئرز 9.14 فیصد گر کر بند ہوئے، جبکہ ٹیسلا کے شیئرز میں 3.08 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ میں مجموعی گراوٹ کے باعث دنیا کے کئی بڑے ارب پتیوں کی دولت بھی کم ہوئی۔ چونکہ ان افراد کی دولت کا بڑا حصہ ان کی کمپنیوں کے حصص سے منسلک ہوتا ہے، اس لیے شیئرز کی قیمت میں تبدیلی کا براہ راست اثر ان کی مجموعی دولت پر پڑتا ہے۔
مارک زکربرگ کو بھی بڑا نقصان
ایلون مسک کے بعد میٹا پلیٹ فارمز کے سربراہ مارک زکربرگ کی دولت میں نمایاں کمی آئی۔ ان کی مجموعی دولت 16.6 ارب ڈالر گھٹ گئی، جس کے بعد وہ 230 ارب ڈالر کی دولت کے ساتھ دنیا کے امیر ترین افراد کی فہرست میں پانچویں مقام پر رہے۔
دنیا کے 9 امیر ترین افراد کون ہیں؟
بلومبرگ بلینیئرز انڈیکس میں درج اعداد و شمار کے مطابق ایلون مسک اب بھی 906 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کے سب سے دولت مند انسان ہیں۔ جیف بیزوس 310 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے، لیری پیج 279 ارب ڈالر کے ساتھ تیسرے جب کہ سرگئی برن 260 ارب ڈالر مالیت کے اثاثوں کے ساتھ دنیا کے چوتھے امیر ترین انسان ہیں۔
فیکس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ جیسے پلیٹ فارمز کے مالک مارک زکربرگ کی مجموعی دولت کا اندازہ 230 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اس طرح دو دنیا کے پانچویں امیر ترین انسان ہیں۔
اسی طرح مائیکل ڈیل 224 ارب ڈالر، اسٹیو بالمر 183 ارب ڈالر، جینسن ہوانگ 176 ارب ڈالر اور لیری ایلیسن 168 ارب ڈالر کے ساتھ بالترتیب چھٹے، ساتویں ، آٹھویں اور نویں نمبر پر ہیں۔
دولت میں ایک دن کے دوران بڑی کمی کے باوجود ایلون مسک دنیا کے امیر ترین شخص کی حیثیت سے پہلے نمبر پر برقرار ہیں۔ ان کی دولت میں روزانہ ہونے والی تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑے کاروباری اداروں کے حصص کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ارب پتیوں کی مجموعی دولت کو کس حد تک متاثر کرسکتا ہے۔


